نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
82897
| تاریخ :
2025-05-21
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

میں ایک مسلم خاتون ہوں، اور حنفی مسلک کی پیروکار ہوں، میں آپ سے ایک اہم مسئلے میں رہنمائی چاہتی ہوں،میری زندگی میں ایک ایسا شخص ہے جس سے میں شادی کرنا چاہتی ہوں، اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم شریعت کے مطابق نکاح کریں، تاکہ ہمارا تعلق حلال ہو جائے، فی الحال کچھ ذاتی اور خاندانی وجوہات کی بنا پر ہم اپنے گھر والوں کو ابھی شامل نہیں کر سکتے، لیکن ان شاء اللہ دویا تین سال بعد جب حالات بہتر ہوں گے، ہم نکاح کا اعلان کریں گے، اور رخصتی بھی کریں گے،ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نکاح اسلامی طریقے سے ہو، جس میں حقِ مہرگواہ اور ایجاب و قبول شامل ہوں، اور یہ سب صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، تاکہ ہم کسی گناہ میں مبتلا نہ ہوں،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا نکاح (بغیر والدین کی موجودگی کے مگر تمام شرعی شرائط کے ساتھ) اسلام میں جائز اور درست ہے؟اور اگر جائز ہے تو ہمیں اس نکاح کو درست طریقے سے انجام دینے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا؟ہم یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے تعلق میں برکت ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جوان لڑکے اور لڑکی کااولیاء کی اجازت کے بغیر آپس میں نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کوسخت معیوب سمجھا جاتا ہے، اور اس طرح چھپ کر کیا ہوا نکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، اس لئے اس طرح کے نکاح سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر سائلہ نے اولیاءکی اجازت کے بغیر کفؤ میں گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے مہر مثل پر نکاح کر لیا تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو جاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أحکام القرآن للجصاص: اختلف الفقھاء فی عقد المرأۃ علی نفسھا بغیر ولی فقال ابوحنیفۃ لھا ان تزوج نفسھا کفوا وتستوفی المھر ولا اعتراض للولی علیھا وھو قول زفر وإن زوجت نفسھا غیر کفو فالنکاح جائز ایضآ وللاولیاء ان یفرقوا بینھما الخ ( باب النکاح بغیر الولی، ج1، ص 401، ط: سہیل اکیڈمی )۔
وفی الدر المختار: ( فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ) رضا ( ولی ) ولأصل أن کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ الخ
وفی الشامیۃ تحت: ( قولہ فنفذ الخ ) أراد بالنفاذ الصحۃ وترتب الأحکام من طلاق وتوارث وغیرھما لا اللزوم، إذ ھو اخص منھا لأنہ مالا یمکن نقضہ وھذا یمکن رفعہ إذا کان من غیر کفء فقولہ فی الشرنبلالیۃ أی ینعقد لازما فی إطلاقہ نظر الخ (باب الولی، ج 3، ص 55، ط : سعید)۔
وفی الدر ایضا: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومہ أو لصحتہ (من جانبہ) أی الرجل لأن الشریفۃ تأبی أن تکون فراشا للدنیء ولذا ( لا ) لا تعتبر ( ممن جانبھا ) الخ
وفی الشامیۃ تحت:( قولہ ولذا لا تعتبر ) تعلیل للمفھوم وھو أن الشریف لا یأبی أن یکون مستفرشا للدنیئۃ ( إلی قولہ ) فإن حاصلہ أن المرأۃ إذا زوجت نفسھا من کفء لزم علی الاولیاء وإن زوجت من غیر کفء لا یلزم أو لا یصح الخ (باب الکفاءۃ، ج 3، ص 86، ط؛سعید)۔
وفی مجمع الأنھر: ولذا قال ( مکلفۃ ) بکرا کان او ثیبا ( بلا ولی ) أی ولو کان النکاح بلا اذن ولی وحضورہ عند الشیخین فی ظاھر الروایۃ لانھا تصرف فی خالص حقھا وھی من اھلہ لکونھا عاقلۃ بالغۃ ولھذا کان لھا التصرف فی المال والاصل ھنا ان کل من یجوز تصرفہ فی مالہ بولایۃ نفسہ یجوز نکاحہ علی نفسہ الخ (باب الاولیاءوالاکفاء، ج1، ص 332، ط: داراحیاءالتراث العربی)۔
وفی الھندیۃ: نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولی عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ تعالی فی ظاھر الروایۃ کذا فی التبیین الخ (باب الاولیاء، ج1، ص 316، ط: دارالکتب)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82897کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات