نکاح

رضاعت کے متعلق

فتوی نمبر :
82917
| تاریخ :
2025-05-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعت کے متعلق

میری والدہ کا نا م ”ناہید“ہے، اور ”سفینہ“ آنٹی میری والدہ کی خالہ کی نواسی ہیں ، ( یعنی میری والدہ کی خالہ کی بیٹی کی بیٹی ) اس لحاظ سے” سفینہ“ آنٹی اور میری والدہ کے درمیان قریبی رشتہ داری ہے ، ”سفینہ“ آنٹی کے 6 بیٹیاں اور 2بیٹے ہیں ، اور ہم بہن بھائی 7 بہنیں اور 2 بھائی ہیں ،”سفینہ“ آنٹی کی دوسری نمبر والی بیٹی نے میری والدہ” ناہید“ کا بچپن میں دودھ پیا ہے ۔ میری دوسری نمبر والی بہن نے”سفینہ “آنٹی کا بچپن میں دودھ پیا ہے ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ” سفینہ “آنٹی کے چھوٹے بیٹے کا رشتہ میری چھوٹی بہن کے لئے آیا ہے ۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس رشتے میں نکاح شرعا ًجائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ دونوں خاندانوں میں رضاعت ( دودھ پلانے ) کا تعلق موجود ہے، لیکن الگ الگ افراد کے ساتھ ، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ یہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں جن دو بچوں کا آپس میں نکاح کرانے کا ارادہ ہے ، اگر انہوں نے ایک دوسرے کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو تو ان کی بڑی بہنوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہو گی ، اس لئے ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( و تحل أخت أخیہ رضاعا ) یصح إتصالہ باالمضاف کأن یکون لہ أخ نسبی لہ أخت رضاعیۃ الخ ( باب الرضاع ج: 3، ص: 217، ط: سعید )۔
و فی الھدایۃ: و یجوز أن یتزوج الرجل بأخت أخیہ من الرضاع لأنہ یجوز أن یتزوج بأخت أخیہ من النسب الخ ( کتاب الرضاع ج: 2، ص: 53، ط: انعامیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82917کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات