السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میں ایک سنی مسلمان لڑکی ہوں، کچھ عرصہ قبل میری ایک لڑکے کے ساتھ آڈیو کال پر نکاح ہوا تھا، میرے ولی (والد یا بھائی) کو اس نکاح کا کوئی علم نہیں تھا۔نکاح کے گواہ صرف لڑکے کے دو دوست تھے، جو مجھے نہیں جانتے تھے، اور نہ ہی میں ان سے کبھی ملی ہوں، کوئی تحریری نکاح نامہ یا ریکارڈ شدہ ثبوت (آڈیو/ویڈیو) بھی موجود نہیں ہے، نکاح ایک حافظ صاحب نے پڑھایا، لیکن کسی قسم کی تصدیق یا دستاویزات تیار نہیں ہوئیں۔اب میں اس رشتے سے علیحدگی چاہتی ہوں، کیونکہ یہ میری زندگی میں شدید ذہنی اور جذباتی تکلیف کا باعث بن رہا ہے، لیکن لڑکا طلا ق دینے سے انکار کر رہا ہے،میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں(1)کیا میرا یہ آڈیو کال پر کیا گیا نکاح شرعی طور پر درست اور معتبر ہے؟(2) اگر یہ نکاح درست نہیں، تو کیا مجھے طلاق یا عدت پوری کرنی ہوگی؟(3)اگر یہ نکاح درست ہے، تو کیا بغیر کسی تحریری ثبوت کے خلع لیا جا سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین والسلام
صورتِ مسئولہ میں سائلہ مسمّاۃ ۔۔۔اگر واقعۃً مجلسِ عقد ( نکاح وگواہان والے محفل )میں موجود نہیں تھی اور نہ ہی اس نے مجلسِ عقد میں موجود کسی شخص کو اپنی طرف سے نکاح کے لئے وکیل بنایا ہو، بلکہ صرف آڈیو کال پر ایجاب و قبول کیا تھا (جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے)،تو ایسی صورت میں سائلہ مسماۃ ۔۔۔۔کا مسمّٰی ۔۔۔۔ سے نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ہےاور نہ ہی اب طلاق لینے یا عدت گزارنے کی کوئی ضرورت ہے،تاہم سائلہ کا اولیاء کی اجازت کے بغیر اس طرح کا اقدام قطعاً درست نہیں تھا،جس سے آئندہ کے لئے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة،الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا الخ (کتاب النکاح،ج 3،ص 14،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: ومنها سماع الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير فلا ينعقد بشهادة نائمين إذا لم يسمعا كلام العاقدين كذا في فتاوى قاضي خان وتكلموا في الأصمين اللذين لا يسمعان والصحيح أنه لا ينعقد كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان وينعقد النكاح بشهادة المعتقل والأخرس إن كان يسمع كذا في الخلاصة ولو سمعا كلام أحدهما دون الآخر أو سمع أحدهما كلام أحدهما والآخر كلام الآخر لا يجوز النكاح هكذا في البدائع الخ (الباب الأول في تفسيره شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، ج،ص268،ط: ماجدیۃ)۔