نکاح

پهلي بيوی کی اجازت کے بغیردوسری شادی کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
83158
| تاریخ :
2025-05-30
معاملات / احکام نکاح / نکاح

پهلي بيوی کی اجازت کے بغیردوسری شادی کرنا جائز ہے؟

I am married to my first wife, in 2013. From this marriage, we have been blessed with two children:
My wife, holds a government job in a small city in Pakistan, and due to the volatile nature of my employment, which requires me to relocate frequently, it is challenging for her to accompany me. Currently, I am employed in Islamabad on a two-year contractual basis. Previously, I have worked in South Korea, Denmark, and Lahore. Her commitment to her job and the necessity for me to move for work have created a situation where cohabitation is not feasible. Moreover, I hold a Ph.D. in Mechanical Engineering, and it is not feasible for me to secure a position that aligns with my qualifications in small city, where my wife is employed. Limited industrial and academic opportunities in that area do not offer suitable employment options for someone with my expertise. Having stable and suitable employment is crucial for the welfare and development of my children. A secure and well-paying job enables me to provide them with better educational opportunities, healthcare, and overall quality of life, thereby laying a strong foundation for their future success.
I want to respectfully ask, given the above condition can I enter into second marriage with or without the permission of my first wife. I acknowledge that I have to fulfill all my financial and conjugal obligations towards both my existing and prospective wives to the best of my ability, as mandated by Islamic principles.
میں نے اپنی پہلی بیوی سے 2013 میں نکاح کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بچوں سے نوازا۔ میری بیوی ایک چھوٹے شہر میں سرکاری ملازمت کرتی ہیں، جبکہ میری ملازمت کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے بار بار تبادلہ کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے میری بیوی کا میرے ساتھ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فی الحال میں اسلام آباد میں دو سالہ معاہدہ پر ملازم ہوں۔ اس سے قبل جنوبی کوریا، ڈنمارک، اور لاہور میں کام کر چکا ہوں۔ میری بیوی کی ملازمت کی وابستگی اور میری نوکری کے تقاضوں کی بنا پر ہمارا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں۔ میں پی ایچ ڈی (مکینیکل انجینئرنگ) ہوں، اور اس چھوٹے شہر میں میری اہلیت کے مطابق کوئی مناسب تعلیمی یا صنعتی مواقع نہیں ہیں۔میرے بچوں کی بہتر تعلیم، صحت اور پرورش کے لیے میرا مستحکم اور معقول روزگار اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
ان حالات میں میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ:
کیا میں دوسری شادی کر سکتا ہوں؟ کیا اس کے لیے پہلی بیوی کی اجازت شرعاً ضروری ہے یا نہیں؟میں شرعی اصولوں کے مطابق دونوں بیویوں کے حقوق مالی، ازدواجی اور دیگر معاملات میں پورے طور پر ادا کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلام میں ایک مرد کو بصورت استطاعت اوربشرط انصاف ایک سے زائد(بیک وقت چار تک) بیویاں رکھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً(سورۃ النساء: 3)
ترجمہ: "پس نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو دو، تین تین، چار چار، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی (پر اکتفا کرو)۔"
جبکہ شرعی طور پر کسی مرد کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرے؛ان کا نفقہ (خرچ)، رہائش، اور ازدواجی حقوق ادا کرے؛کسی بھی بیوی پر ظلم نہ کرے یا اسے محرومی کا شکار نہ بنائے۔
البتہ پاکستان کے قانونِ عائلی حدود (Muslim Family Laws Ordinance 1961) کے تحت دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی اور متعلقہ یونین کونسل سے اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر مرد کو سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
لہٰذاصورت مسئولہ میں اگر سائل تمام حقوقِ واجبہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتاہے اور دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کر سکتا ہے تو اس کے لیے شرعی لحاظ سےپہلی بیوی کی اجازت کے بغیربھی دوسری شادی کرنا جائز ہے۔
تاہم، پاکستان کے قانون کے تحت چونکہ قانونی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے کی صورت میں سزا کا امکان ہے۔ اس لیے اگر سائل قانونی کارروائی سے بچنا چاہتا ہے تواس کے لیے بہتریہی ہےکہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے حکمت ومصلحت کے ساتھ پہلی بیوی کوراضی کرکےدوسری شادی کرے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83158کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات