جناب مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ"ہم ایک تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں۔جس میں ہمیں ادارہ کو چلانے کے لئے کچھ رقم چندہ کی مد میں اور کچھ رقم زکوۃ کی مد میں آتی ہے۔(آدھی رقم چندہ کی اور آدھی رقم زکوۃ کی ہوتی ہے۔مثلا /50000 روپے دیئے تو /25000 روپے چندہ کی مد میں اور /25000 روپے زکوۃ کی مد میں ہوتے ہیں۔)آپ سے رہنمائی چاہئے کہ ہم اس رقم کو کس طرح خرچ کریں؟ہم تقریبا مفت تعلیم دیتے ہیں۔ہم ہر ماہ بچہ سے کتاب ،کاپی،یونیفارم،اور دیگر اخراجات(مثلا فرنیچر کی مرمت،پانی کی موٹر۔ٹھنڈے پانی کی مشین کی مرمت)میں /900 لیتے ہیں جبکہ ہمارا ماہانہ خرچہ فی کس کم و بیش /2800 روپے ہوتا ہے۔جس میں تمام اساتذہ کی تنخواہ،اور اسکول کے دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔لہذا آپ جناب سے گزارش ہے کہ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ ہم اس زکوۃ کے پیسوں کو کس طرح خرچ کریں کہ ہم آسانی سے اپنا ادارہ چلاسکیں۔کیونکہ ہمارے پاس چند ٹیچرز اور بچے آل رسول ﷺ سے ہیں(یعنی سید)۔جناب عالی سے ملتمس ہوں کہ رہنمائی فرمائیں کہ کس طرح ہم ادارے کو چلاسکیں ہمارے ادارہ میں کم و بیش 1250 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
واضح ہو کہ زکوۃ کی رقم کسی ایسے غریب مستحق شخص کو بلا معاوضہ مالک و قابض بنا کر دینا ضروری ہے جو صاحب نصاب نہ ہو اور زکوۃ کی رقم سید اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا بھی جائز نہیں ہے لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے زکوۃ کی رقم بغیر کسی تملیک کے براہ راست اسکول کے ایسے مصارف میں خرچ کرنا جس میں مستحق افراد کو بلا معاوضہ مالک نہیں بنایا جاتا ہو، درست نہیں ہے اور نہ ہی اس طریقہ سے زکوۃ ادا ہوگی، اسی طرح زکوۃ کی رقم اساتذہ کی تنخواہوں میں دینا بھی درست نہیں ہے کیونکہ زکوۃ کسی خدمت کے عوض نہیں دی جا سکتی لہذا سائل کو چاہیے کہ زکوۃ کی مد میں وصول شدہ رقم براہ راست مستحق بچوں پر خرچ کیا کرے اور اس کے علاوہ دیگر مصارف میں طلبہ سے فیس کی مد میں وصول شدہ رقم استعمال کرے البتہ جو طلبہ زکوۃ لینے کے شرائط پر پورے اترتے ہوں انہیں اگر زکوۃ کی رقم کا مالک بنا کر ان کے حوالے کر دی جائے اور پھر وہ خود اپنی تعلیمی مصارف میں اس کو خرچ کریں یا فیس کی مد میں ان سے وہ رقم وصول کر لی جائے، یا کسی مستحق زکوۃ شخص کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنا کر رقم اس کے حوالے کی جائے پھر وہ اپنی مرضی سے اس رقم کو مدرسے کے مصارف میں خرچ کرنے کے لیے دیدے تو ایسی صورت میں زکوۃ کی رقم مدرسے کے تمام مصارف میں خرچ کرنا جائز ہوگا۔
كمافي الفتاوى الهنديه :فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى ..
وفيه أيضا :ولو نوى الزكاة بما يدفع المعلم إلى الخليفة ولم يستاجره ان كان الخليفةبحال لو لم يدفعه يعلم الصبيان أيضا أجزأه وإلا فلا..(ج:1،ص:190،مكتبةماجدية).
وفي الدر المختار: وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يامره بفعل هذه الاشياء، وهل له أي يخالف امره؟ لم أره والظاهر نعم..(ج:2،ص:345،مط:ایچ ایم سعید کراچی).
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0