السلام علیکم
میرا بھائی "شیزوفرینیا" کا مریض ہے۔ وہ مکینیکل انجینئر ہے، لیکن اس بیماری کی وجہ سے کوئی کام کاج نہیں کرتا۔ والد صاحب وفات پا چکے ہیں، اور والدہ (جو کہ ریٹائرڈ ٹیچر ہیں) اس کے تمام مالی معاملات دیکھتی ہیں۔
اس کی وراثتی جائیداد موجود ہے، جس میں کچھ زرعی زمین اور ایک آبائی مکان شامل ہے، تاہم زرعی زمین پر ابھی قبضہ نہیں ہے اور اس سے آمدن بھی نہیں ہو رہی۔
میرا بھائی اس وقت ایک ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل ہے۔
کیا میں اسے اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟
کیا ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے اخراجات زکوٰۃ کی مد میں ادا کیے جا سکتے ہیں؟
اگر سائل کے بھائی کے پاس نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا کسی بھی قسم کا سامان موجود نہ ہواور وہ ہاشمی (سید/ عباسی) نہ ہو، تووہ زکاۃ کا مستحق ہے،اس کو زکاۃ دیناجائزہے،اورزکاۃ کی یہ رقم ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے چارجز میں بھی اداکی جاسکتی ہے، بشرطیکہ یہ رقم براہِ راست ادارے کو نہ دی جائے، بلکہ پہلے مریض یا اس کے وکیل کو دے کر پھر ان سے ادا کروائی جائے تاکہ تملیک (ملکیت میں دینا) کی شرط پوری ہو جائے، جو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم ولهذا تقبل شهادة البعض على البعض والله أعلم هذا الذي ذكرناه إذا دفع الصدقة إلى إنسان على علم منه بحاله أنه محل الصدقة.» (2/ 50)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر(2/ 344)
وفی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج. (1/ 190)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1