نکاح

بالغہ لڑکی کی مرضی کے بغیر کروائے ہوئے نکا ح کا حکم

فتوی نمبر :
83379
| تاریخ :
2025-06-09
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بالغہ لڑکی کی مرضی کے بغیر کروائے ہوئے نکا ح کا حکم

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب ایک بالغ لڑکی اپنی مرضی سے انکار کرے اور اپنے گھر والوں سے کہے کہ وہ ظلم و جبر نہ کریں، لیکن اس کے باوجود گھر والے زبردستی اس کا نکاح ایسے شخص سے کر دیں جس سے وہ راضی نہیں، اور وہ لڑکی آج تک اس نکاح اور اس مرد کو اپنا شوہر ماننے پر تیار نہ ہو،تو کیا ایسا نکاح شرعاً درست (نافذ) ہے یا باطل؟اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے،اگر یہ نکاح غلط یا باطل ہے تو کیا اس کو ختم (منسوخ) کرنے کے لیے شرعی فتویٰ دیا جا سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر والدین اپنی بالغہ لڑکی کا نکاح کر وادیں ، اور نکاح کرواتے وقت (بالغہ) لڑکی نہ خود اس نکاح کو قبول کرے اور نہ ہی اپنی طرف سے کسی کو مجلس عقد میں نکاح قبول کرنے کا وکیل بنائے تو ایسی صورت میں یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے ، اگر لڑکی اجازت د یدے تو یہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے ، ورنہ باطل ہو جاتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور لڑکی کا معاملہ اسی طرح ہو کہ وہ لڑکی بالغہ ہو اور عقدِ نکاح کے وقت نہ اس نے خود اس نکاح کو قبول کیا ہو، اور نہ اس کے وکیل نے اس نکاح کو قبول کیا ہو ، اور نہ ہی اس نے اس نکاح پر رضامندی کا اظہار کر کے اس کی اجازت دی ہو، بلکہ والدین نے اس کی رضامندی کے بغیر جبر کر کے اس کا نکاح کروایا ہو، اور پھر بعد میں بھی اس لڑکی نے اس نکاح کی اجازت نہ دی ہو، تو ایسی صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ،لہذا اس نکاح کو فسخ کیے بغیر بھی لڑکی آزاد ہے ،وہ چاہے تو دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( و لا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح ) لانقطاع الولایۃ بالبلوغ الخ ( کتاب النکاح باب الولی ج:3، ص:57، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: لايجوز ‌نكاح ‌أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنھا بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتھا فإن أجازته جاز، و إن ردته بطل، كذا في السراج الوھاج الخ (كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء،ج:1، ص:287، ط: رشيدية)۔
و فی بدائع الصنائع : الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض
(کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب فی النکاح، ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83379کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات