اگر کسی عورت کو پتہ چلے کہ: اس کے شوہر نے جادو ٹونہ کرنا سیکھا ہے اور اس نے خود دیکھا بھی ہو کہ: وہ جادو ٹونہ کرتا ہے،تو اب نکاح کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں سحر (جادو) کا سیکھنا اور کرنا سخت ممنوع اور حرام ہے۔ فقہاءکرام ؒ نے لکھا ہے"تعلمه و تعليمه حرام" یعنی جادو سیکھنا اور سکھانا دونوں ناجائز ہیں ،البتہ اس کے ساتھ فقہاء کرام نے یہ بھی وضاحت فرمائی ہے کہ: ہر وہ چیز جسے سحر کہا جائے، لازماً کفر نہیں ہوتی؛ کیونکہ بعض اوقات سحر ایسے الفاظ، عقائد یا افعال پر مشتمل ہوتا ہے جو صریح کفر ہوتے ہیں، مثلاً ستاروں کو مؤثرِ حقیقی سمجھنا، قرآنِ کریم کی توہین کرنا یا کوئی اور کفریہ کلمہ و عمل اختیار کرنا۔ ایسی صورت میں سحر(جادو) کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور کبھی سحر ایسے امور سے بھی ہوتا ہے جو کفر تک نہیں پہنچتے (مثلاً بعض خفیہ تدبیریں یا اشیاء کا استعمال)، مگر یہ بہرحال حرام اور شدید گناہ ہے۔
نیز یہ کہ عدمِ کفر کا مطلب یہ نہیں کہ جرم ہلکا ہے؛ بلکہ اگر کسی شخص کا جادو کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچانا ثابت ہو جائے ،تواسلامی حکومت اسے فساد پھیلانے کی بنا پر سخت سزا دے سکتی ہے، حتیٰ کہ دفعِ شر کے طور پر قتل کی سزا بھی دی جا سکتی ہے، جیسے رہزن اور فساد برپا کرنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر کسی عورت کو یقین ہو جائے کہ اس کا شوہر جادو کرتا ہے، تو دیکھا جائے گا کہ آیا اس جادو میں کفریہ عقائد و اعمال شامل ہیں یا نہیں ،اگر کفر ثابت ہو اور شوہر توبہ نہ کرے، تو نکاح برقرار نہیں رہیگا،اور اگر کفر ثابت نہ ہو تو نکاح تو باقی ہے، مگر شوہر سخت گناہگار ہے، اس پر فوری توبہ لازم ہے، اور بیوی کو چاہیئے کہ اسے اس فعلِ قبیح سے باز آنے کی تاکید کرے۔اگر شوہر اس سے رجوع نہ کرے اور اس کے ساتھ رہنے میں دینی یا جانی نقصان کا اندیشہ ہو، تو بیوی کے لیے شرعی طریقے سے علیحدگی (طلاق یا خلع) اختیار کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
کمافی الدر: واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره. ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب. وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبذة والتنجيم والرمل وعلوم الطبائعيين والسحر الخ
وفی الرد تحت( قوله :والسحر)هو علم يستفاد منه حصول ملكة نفسانية يقتدر بها على أفعال غريبة لأسباب خفية. اهـ. ح. وفي حاشية الإيضاح لبيري زاده قال الشمني: تعلمه وتعليمه حرام.(الی قوله) قد تقع بما هو كفر من لفظ أو اعتقاد أو فعل، وقد تقع بغيره كوضع الأحجار. وللسحر فصول كثيرة في كتبهم. فليس كل ما يسمى سحرا كفرا، إذ ليس التكفير به لما يترتب عليه من الضرر بل لما يقع به مما هو كفر كاعتقاد انفراد الكواكب: بالربوبية أو إهانة قرآن أو كلام مكفر ونحو ذلك اهـ ملخصا، وهذا موافق لكلام إمام الهدى أبي منصور الماتريدي، ثم إنه لا يلزم من عدم كفره مطلقا عدم قتله؛ لأن قتله بسبب سعيه بالفساد كما مر. فإذا ثبت إضراره بسحره ولوبغيرمكفر: يقتل دفعا لشره كالخناق وقطاع الطريق. مطلب في الكهانة الخ(ج:1،ص: 45-44)۔