نکاح

کفریہ عقیدہ نہ رکھنے والے بدعتی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
83809
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کفریہ عقیدہ نہ رکھنے والے بدعتی سے نکاح کا حکم

میرا نکاح میرے ماموں کی بیٹی کے ساتھ ہوا ہے ، جبکہ میں شیعہ ہوں ،پر میں سنی مولانا کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ، میرے دل میں ایسا کچھ نہیں ہے ، میں جمعہ کی نماز بھی جامعہ بنوریہ میں پڑھتا ہوں، کیونکہ میری والدہ سنی ہے ، اس لئے میری پرورش بھی ایسی ہوئی ہے، مجھے اپنے فرقے کی نماز نہیں آتی ہے ، مجھے کسی نے ایسا کہا کہ سنی اور شیعہ کا نکاح نہیں ہوتا ہے ، اس لئے مجھے جاننا ہے کہ میرا نکاح ہوا ہے یا نہیں ؟ اور میرے نکاح کو دو مہینے ہوگئے ہیں ، ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے۔ہمارا کلمہ یہ ہے "لا إله إلا الله محمد رسول الله ، على ولى الله وصى رسول الله وخليفته بلا فصل "
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہم اپنا امام مانتے ہیں، مرتبہ درجہ کا مجھے علم نہیں، باقی جو عقائد ہیں ، اس کے بارے میں بھی مجھے علم نہیں، مجلس میں شرکت کرتا ہوں ، قرآن بھی میں نے یہی پڑھا ہے۔
میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ حلفیہ اقرار کرتا ہوں، کہ میری والدہ سنی مسلمان ہے اور انہوں نے میری پرورش کی اور سنیوں کی مسجد میں قرآن پڑھا ہے ، اور مجھے شیعوں کے عقائد بالکل معلوم نہیں ہے ، اس لئے شیعوں کے کفریہ عقائد مثلا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا ماننا، قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہونا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی میں غلطی کرنے کا عقیدہ ر کھنا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والی تہمت کو سچا ماننا ، یا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ " کی صحابیت کا منکر ہونا ، یا دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم “ کے مرتد ہونے یا دیگر مخالف قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھنا وغیر ہ ، اس طرح کے عقائد سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی میں ان کفریہ عقائد کو درست مانتا ہوں ، اور جو بھی فرد اس طرح کفریہ عقائد کا حامل ہو گا اسے میں دائرہ اسلام سے خارج مانتا ہوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کا واقعۃً بھی اس کے حلفیہ بیان میں مذکور عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو ، بلکہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل مانتا اور باقی صحابہ پر ان کو فضیلت دیتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کا فر تو نہیں، مگر گمراہ ضرور ہے ، اسی بناء پر سائل کسی بھی سنی مسلمان لڑکی کا کفؤ نہیں ، تاہم اگر سائل نے اپنی ماموں زاد بہن سے ان کے اولیاء اور سر پرستوں کی اجازت سے نکاح کیا ہو جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے تو یہ عقدِ نکاح درست منعقد ہوا ہے ، اور سائل کے لئے رخصتی کے بعد اپنی ماموں زاد بہن کے سا تھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، (4/ 237)۔
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: والرافضي إن فضل عليا فهو مبتدع، وإن أنكر خلافة الصديق فهو كافر. اھ (1/ 108)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم خلیل الطوخی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83809کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات