کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور عمر ایک دوسرے کے رضاعی بھائی ہیں، تو زید کے چھوٹے بھائی کا رشتہ عمر کی بڑی ہمشیرہ کی بیٹی کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا زید کے چھوٹے بھائی بہن اور عمر کے چھوٹے بھائی بہن بھی آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں ؟
اگر صرف زید نے عمر کی والدہ کا دودھ پیا ہے ، اس کے دیگر بہن بھائیوں نے نہیں ، تو عمر اور اس کے بہن بھائی تو زید کے رضاعی بہن بھائی ہیں، مگر زید کے دیگر بہن بھائیوں اور اسی طرح عمر اور اس کے بہن بھائیوں کے درمیان رشتہ رضاعت قائم نہیں ہو ا، لہذا ان کا یا ان کی اولادوں کا ایک دوسرے سے نکاح شرعاً جائز ہے۔
كما في صحيح مسلم للنيسابوري: 3652 - حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا ليث ح وحدثنا محمد بن رمح أخبرنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن عراك عن عروة عن عائشة أنها أخبرته أن عمها من الرضاعة - يسمى أفلح - استأذن عليها فحجبته فأخبرت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لها « لا تحتجبى منه فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ». (4/ 164)