نکاح

جوان لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
83948
| تاریخ :
2025-07-06
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جوان لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میں ایک بالغ عاقل، مسلمان مرد ہوں اور ایم بی بی ایس کے آخری سال کا طالب علم ہوں۔ میری بات چیت ایک بالغ عاقل، دیندار لڑکی سے کچھ عرصے سے جاری ہے، جو یونیورسٹی میں لیکچرر ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ شریعت کے مطابق نکاح کر کے اپنے تعلق کو حلال بنائیں۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے گھر والوں کو اس رشتے سے آگاہ کر دیا ہے۔ میرے گھر والوں نے نکاح میں جلدی کرنے کے بجائے انتظار کا مشورہ دیا ہے۔ اور لڑکی کی والدہ اور بہنوں کو بھی رشتے کا علم ہے اور وہ راضی ہیں، البتہ لڑکی کے والد کو ابھی اطلاع نہیں دی گئی۔ اب تک دونوں خاندانوں کے درمیان رسمی رشتہ یا نکاح کی بات چیت نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے نکاح میں صرف تاخیر ہو رہی ہے، کوئی واضح رکاوٹ نہیں۔ ہم دونوں مختلف شہروں میں رہتے ہیں اور ہمارا رابطہ صرف آن لائن چیٹ تک محدود ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ نکاح کر کے اپنی آن لائن بات چیت کو شرعی حیثیت دے دیں ، تاکہ گناہ سے بچ سکیں، جبکہ باقی معاملات جیسے رخصتی یا والد کی شمولیت بعد میں طے کیے جائیں۔ نکاح کے بعد لڑکی اپنے والدین کے ساتھ ہی رہےگی اور جب والد کو اطلاع دی جائے گی اور وہ شامل ہوں گے، تو ہم باقاعدہ طور پر رسمی نکاح دوبارہ (ری نکاح) کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، لہٰذابراہ ِکرم ہمیں شرعی طور پر درجِ ذیل امور میں رہنمائی فراہم فرمائیں۔
1۔کیا شریعت کے مطابق ایسی صورت میں اگر لڑکی اپنی مکمل رضا مندی سے، دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ولی (والد) کے علم یا اجازت کے بغیر نکاح کرےتو کیا یہ نکاح شرعاً جائز اور صحیح ہوگا؟ 2۔کیا ایسی صورت میں خفیہ نکاح (secret nikah) شرعی طور پر جائز ہے؟
3۔ اگر ہم اس نکاح کے بعد میاں بیوی کی حیثیت سے ازدواجی تعلق قائم کریں تو کیا وہ شرعاً مکمل طور پر حلال ہوگا؟ التماس ہے کہ اگر ممکن ہو تو ان جوابات کے ساتھ شرعی دلائل (قرآن، حدیث یا فقہی حوالہ جات) بھی ضرور شامل فرمائیں، تاکہ ہمیں شرعی اطمینان حاصل ہو سکے۔
نوٹ: میری درخواست ہے کہ میرے اس سوال اور اس کے جواب کو میرے تک محدود رکھا جائے اور اسے عام نہ کیا جائے۔ جزاکم الله خیراً و احسن الجزا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

والدین کی اجازت و رضامندی کے بغیر کیا ہوا عقدِ نکاح اگر مہرِ مثل کے ساتھ اور کفؤ ( ہم پلہ خاندان ) میں ہو تو اگرچہ یہ نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے، اور اس کے بعد لڑکے اور لڑکی کےلئے باہمی طور پر ازدواجی تعلقات قائم کرنا بھی حلال ہوجاتا ہے، مگر جوان لڑکے و لڑکی کا اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا شرعاً معیوب اور عرفاً انتہائی قبیح عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے خفیہ نکاح کو انتہائی بُرا سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے سائل کو چاہیئے کہ والدین کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح نکاح کرنے سے باز رہے۔ اور دونوں خاندان جب اس رشتہ پر راضی ہیں تو باہمی مشاورت سے جلد از جلد نکاح کی ترتیب بنالیں، بلا وجہ خفیہ نکاح کرکے اپنے رشتے کو متنازع بنانے سے اجتناب لازم ہے، اور جب تک نکاح نہیں ہوجاتا، تب تک بلا ضرورت تحریری بات چیت، ہنسی مذاق وغیرہ سے مکمل اجتناب کریں، ورنہ دونوں گناہ گار ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی معالم سنن: عن صفية :(قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم معتكفا فأتيته أزوره ليلا فحدثته و قمت فانقلبت فقام معی ليقلبنی و كان مسكنھا فی دار أسامة بن زيد فمر رجلان من الأنصار، فلما رأيا النبی صلى الله عليه وسلم أسرعا فقال النبی صلى الله عليه وسلم: على ‌رسلكما انھا صفية بنت حيی، فقالا سبحان الله برسول الله، قال: الشيطان يجری من الإنسان مجرى الدم فخشيت أن يقذف فی قلوبكما شيئاً أو قال شراً.قال الشيخ: فيه من العلم استحباب أن يتحرز الإنسان من كل أمر من المكروه مما تجری به الظنون ويخطر بالقلوب و أن يطلب السلامة من الناس بإظھار البراءة من الريب )۔(كتاب الأدب، باب من تشبع بما لم يعط، ج 4، ص 134، ط: العلمية)۔
. و فی الدر المختار: (أي حل استمتاع الرجل) أی المراد أنه عقد يفيد حكمه بحسب الوضع الشرعی۔ و في البدائع أن من أحكامه ملك المتعة و هو اختصاص الزوج بمنافع بضعھا و سائر أعضائھا استمتاعا أو ملك الذات و النفس فی حق التمتع على اختلاف مشايخنا فی ذلك (إلی قولہ) و یندب إعلانہ أی إظھارہ و الضمیر راجع إلی النکاح بمعنی العقد، لحدیث الترمذی: أعلنوا ھذا النکاح و اجعلوہ فی المساجد و اضربوا علیہ بالدفوف إلخ۔ (کتاب النکاح، ج 3، ص 4۔9، ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: (فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا) رضا (ولی) و الأصل أن کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ و ما لا فلا (إلی قولہ) (و يفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) و هو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ (إلی قولہ) و لا یصح النکاح من غیر کفء أو بغبن فاحش أصلا (إلی قولہ) و إن کان من کفؤ و بمھر المثل صح إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ ولایۃ ندب) أی یستحب للمرأۃ تفویض أمرھا إلی ولیھا کی لا تنسب إلی الوقاحۃ بحر إلخ۔ (باب الولی، ج 3، ص 55۔68، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83948کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات