کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ کے چچا ہائی کورٹ کے وکیل ہیں، وکیل صاحب اپنی رقم سے دوکان وغیرہ یا کوئی اور کاروبار میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، کیا میرے پاس اپنی ذاتی کوئی رقم نہیں ہے، کیا بندہ ان کے ساتھ کوئی کاروبار کر سکتا ہے یا نہیں، یعنی رقم ان کی ہوگی اور محنت میں کروں گا اور نفع آدھا ہوگا، کیا میں ایسا کر سکتا ہوں، یا ان کے ساتھ تنخواہ پر کام کر سکتا ہوں، والسلام!
کاروبار میں اگر ایک آدمی کا مال ہو اور دوسرے آدمی کا عمل ہو، اور نفع آدھا آدھا یا فیصد وغیرہ کے اعتبار سے متعین کر لیا جائے تو یہ عقد ’’مضاربت‘‘ کہلاتا ہے جو شرعا ًبھی جائز اور درست ہے اور سائل تنخواہ پر کام کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے اور عقد ’’اجارہ‘‘ کہلائے گا ، لہٰذا ان دونوں سے کوئی سی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0