کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا، بعد ازاں میں نے اس کو مؤرخہ 22/10/2020 کو طلاق دیدی، اور اسی روز اپنی سابقہ بیوی کی سگی بھانجی سے نکاح کر لیا ، طلاق کا وقوع دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا ، اب یہ امر مطلوب ہے کہ یہ انکاح مُطابقِ شریعت درست ہوا، یا سابقہ بیوی کی عدت عرصہ تین ماہ پوری ہونے کا انتظار کرنا چاہیے تھا ؟ر ہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی عدت مکمل ہونے سے قبل اس کی بھانجیسے نکاح کرنا شرعاً انا جائز، اور حرام تھا، جبکہ یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل پر بصدقِ دل تو بہ واستغفار کریں ، اور اگر سائل اپنی بیوی کی بھانجی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہو، تو مطلقہ بیوی کی عدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اس کی بھانجی سے نکاح کر سکتا ہے۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وكذلك المرأة وعمتها وخالتها في جميع ما وصفنا، وكما لا يجوز للرجل أن يتزوج امرأة في نكاح أختها لا يجوز له أن يتزوجها في عدة أختها، وكذلك التزوج بامرأة هي ذات رحم محرم من امرأة بعقد منه، والأصل أن ما يمنع صلب النكاح من الجمع بين ذواتي المحارم فالعدة تمنع منه. اھ (2/ 263)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب عشرون موضعا يعتد فيها الرجل (قوله: عشرون) وهي: نكاح أخت امرأته وعمتها وخالتها، وبنت أخيها، وبنت أختها، والخامسة، وإدخال الأمة على الحرة، ونكاح أخت الموطوءة في نكاح فاسد، أو في شبهة عقد، ونكاح الرابعة كذلك أي إذا كان له ثلاث زوجات ووطئ أخرى بنكاح فاسد، أو شبهة عقد ليس له تزوج الرابعة حتى تمضي عدة الموطوءة اھ (3/ 503)۔
وفيه ايضاً : ماتت امرأته له التزوج بأختها بعد يوم من موتها كما في الخلاصة عن الأصل، وكذا في المبسوط لصدر الإسلام والمحيط للسرخسي والبحر والتتارخانية وغيرها من الكتب المعتمدة، وأما ما عزي إلى النتف من وجوب العدة فلا يعتمد عليه وتمامه في كتابنا تنقيح الفتاوى الحامدية
و في الهداية الهداية شرح البداية: ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى لأن الجمع بينهما يفضي إلى القطيعة والقرابة المحرمة للنكاح اھ (1/ 192)۔