احکام نماز

مجبوری کی حالت میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کا حکم

فتوی نمبر :
84673
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

مجبوری کی حالت میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "وما من دابة في الارض الا على اللہ رزقها " کہ جب رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے، تو ہر سال سینکڑوں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں، اور اکثر یہ اموات غریب ممالک میں ہی واقع ہوتی ہیں جیسے ایتھوپیا، افریقہ وغیرہ، لیکن جو مالدار ہیں جیسے امریکہ، فرانس، یورپ اور دیگر ممالک ان میں بھوک کی وجہ سے اموات نہیں ہوتیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق اسباب کے ساتھ مشروط ہے، جو شخص حصولِ رزق کے لئے اسباب اختیار کرے گا اسے رزق ملے گا، کیا یہ بات درست ہے؟
۲: اس مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے کہ میں نے سنا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ ہے، لہذا نمازی کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کریں، اگرچہ عمر گزر جائے ،اب مسئلہ پوچھنا یہ ہے کہ ایک طرف جماعت نکل رہی ہے، اور دوسری طرف میں ایک نمازی کے آگے ہوں ،تو آپ بتائیں ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ نمازی کی نماز ختم ہونے کا انتظار کروں یا نمازی کے آگے سے نکل جاؤں ؟
۳: ایک مسئلہ یہ ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں فجر کے وقت مسجد میں اس وقت پہنچتا ہوں ،جب جماعت کھڑی ہو چکی ہوتی ہے، یا امام دوسری رکعت میں ہوتا ہے، تو مجھے ان صورتوں میں سنتیں پڑھنی چاہئیے یا جماعت کی نماز میں شامل ہونا چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دیگر تمام امور کی طرح رزق کا معاملہ بھی اسباب کے ساتھ وابستہ ہے، چنانچہ حصولِ رزق کے لئے اسباب کا اختیار کرنا نہ صرف سنت، بلکہ واجب اور لازم ہے ، سائل نے جو آیت لکھی ہے، اس کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات کے مختلف جوابات علماء نے دیے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رزق کی ذمہ داری اس وقت تک ہے جب تک اس کی موت مقدر یعنی عمر پوری نہ ہو جائے، تو اس کو لازمی مرنا ہے، جس کا عام سبب امراض ہوتے ہیں کبھی جلنا ، زخمی ہو جانا، گاڑی وغیرہ سے ٹکرا جانا ، لہذا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا رزق بند کر دیا گیا جس سے موت واقع ہوئی۔
۲: نمازی کے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھ کر جانا جائز اور درست ہے ،ممانعت سامنے سے گزرنے کی ہے، تاہم اگر گزرنا بھی ہو تو دو سے تین صف چھوڑ کر گزر سکتا ہے۔
۴: فجر کی نماز میں تاخیر سے پہنچنے والے شخص کو اگر غالب گمان ہو کہ سنتیں ادا کرنے کے بعد جماعت مل جائے گی، اگر چہ آخری رکعت یا قعدہ ہی ملنے کی امید ہو تب بھی ان سنتوں کو نہ چھوڑے، بلکہ ایک طرف ہو کر پہلے سنتیں ادا کرے پھر جماعت میں شریک ہوجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها» . رواه مسلم اھ (1/ 366)۔
و في شرح مشكل الآثار: شرح مشكل الآثار: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تتركوا ركعتي الفجر وإن طردتكم الخيل " (10/ 321)۔
و في مصنف عبد الرزاق الصنعاني: 4025 - عن هشام بن حسان، عن الحسن قال: «إذا دخلت المسجد والإمام في الصلاة، ولم تكن ركعت ركعتي الفجر، فصلهما ثم ادخل مع الإمام»، قال هشام: «وكان ابن عمر، والنخعي يدخلان مع الإمام ولا يركعان حينئذ» اھ (2/ 445)۔
وفى الدر المختار: (وكذا يكره التطوع عند إقامة صلاة مكتوبة) أي إقامة إمام مسجدہ لحديث «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة» (إلا سنة فجر إن لم يخف فوت جماعتها) ولو بإدراك تشهدها، فإن خاف تركها أصلا اھ (1/ 378)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: إلا سنة فجر) لما روى الطحاوي وغيره عن ابن مسعود أنه دخل المسجد وأقيمت الصلاة فصلى ركعتي الفجر في المسجد إلى أسطوانة وذلك بمحضر حذيفة وأبي موسى، ومثله عن عمر وأبي الدرداء وابن عباس وابن عمر كما أسنده الحافظ الطحاوي في شرح الآثار، ومثله عن الحسن ومسروق والشعبي شرح المنية. (قوله: ولو بإدراك تشهدها) مشى في هذا على ما اعتمده المصنف والشرنبلالي تبعا للبحر، لكن ضعفه في النهر، واختار ظاهر المذهب من أنه لا يصلي السنة إلا إذا علم أنه يدرك ركعة وسيأتي في باب إدراك الفريضة ح. قلت: وسنذكر هناك تقوية ما اعتمده المصنف عن ابن الهمام وغيره. (1/ 378)۔
و في مشكاة المصابيح؛ وعن أبي جهيم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» . قال أبو النضر: لا أدري قال: «أربعين يوما أو شهرا أو سنة» اھ (1/ 242)۔
و في الدر المختار: (ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا) (1/ 634)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله بموضع سجوده) أي من موضع قدمه إلى موضع سجوده كما في الدرر، وهذا مع القيود التي بعده إنما هو للإثم، وإلا فالفساد منتف مطلقا (قوله في الأصح) هو ما اختاره شمس الأئمة وقاضي خان وصاحب الهداية واستحسنه في المحيط وصححه الزيلعي، ومقابله ما صححه التمرتاشي وصاحب البدائع واختاره فخر الإسلام ورجحه في النهاية والفتح أنه قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع أي راميا ببصره إلى موضع سجوده؛ وأرجع في العناية الأول إلى الثاني بحمل موضع السجود على القريب منه. (إلى قوله) (قوله ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني (قوله فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود، هذا ما ظهر لي في تقرير هذا المحل اھ (1/ 634)۔
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن أنس «أن رجلا من الأنصار أتى النبي - صلى الله عليه وسلم - يسأله، فقال: " أما في بيتك شيء؟ "، تحت هذا الحديث (ثم قال: اذهب، فاحتطب) أي: اطلب الحطب واجمع " وبع، ولا أرينك خمسة عشر يوما " أي:، لا تكن هنا هذه المدة لا أراك، وهذا مما أقيم فيه المسبب مقام السبب، والمراد نهي الرجل عن ترك الاكتساب في هذه المدة، لا نهي نفسه عن الرؤية اھ (4/ 1315)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ذاکراللہ امان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84673کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات