کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، ہماری کمپنی میں بلٹی کاکاروبار بھی ہوتا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ ٹرک والے ہماری کمپنی میں جب مال لے کر آتے ہے، تو وہاں موجود بروکر ان سے بلٹی اصل قیمت سے کچھ کم قیمت پر لے لیتا ہے ، پھر بعد میں جاکر اصل مالک کو وہ بلٹی دے کر اصل قیمت وصول کرتا ہے، جو ٹرک والوں کو دی جانے والی رقم سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہ زیادتی بروکر کا نفع ہوتا ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ یہ بلٹی کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بلٹی کا مذکور معاملہ تو شرعاً درست نہیں، البتہ اس معاملہ کا درست اور جائز طریقہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر اس معاملہ میں الگ الگ دو عقد کر لئے جائیں، ایک یہ کہ گاڑی کا ڈرائیور مثلا پچاس ہزار کی بلٹی کی صورت میں مذکور بروکر سے سینتالیس ہزار روپے قرض لے لے، اور پھر قرض کی ادائیگی کے لئے دوسرا معاملہ وکالت کا کرے، اس طور پر کہ اپنا پچاس ہزار والا واؤچر اسے دے کر مذکور رقم وصول کرنے کا اسے وکیل بنا دے، اور یہ صراحت کر دے کہ اس میں سے سینتالیس ہزار روپے اپنے قرض میں اور بقیہ تین ہزار روپے اس قرض کی وصولی کے لئے آنے جانے اور رابطہ وغیرہ کرنے کی اجرت میں چھوڑتا ہوں، چنانچہ اس طرح ہر دو معاملات الگ الگ انجام دینے کی صورت میں یہ عقد درست ہوگا اور ضرورت بھی پوری ہو جائیگی۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وأفتى المصنف إلخ) تأييد لكلام النهر، وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية فيقول له رجل: بعتني جامكيتك التي قدرها كذا بكذا، أنقص من حقه في الجامكية فيقول له: بعتك فهل البيع المذكور صحيح أم لا لكونه بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح اھ (4/ 517)۔
و في الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (4/ 560)۔
و في فقه البيوع : وإن حصول هذا المقصود يمكن بان يستأجر حامل الكمبيالة البنك لتسلم الثمن من المشترى عند حلول الأجل وتوصيله إلى حامل الكمبيالة ، ويمكن للبنك أن يتقاضى منه أجرة على هذه الخدمة ، ثم يستقرض منه مبلغا قرضا بدون فائدة و هذا إنما يجوز إذا لم يكن القرض مشروطا في عقد الاستيجار و إن لا تكون أجرة تحصيل الثمن اھ (۲/ ۱۱۲۴) والله اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0