نکاح

گھر والوں کی مرضی کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
84837
| تاریخ :
2025-08-02
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گھر والوں کی مرضی کے بغیر نکاح کرنا

السلام علیکم،
مجھے ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ درپیش ہے۔ میری پسند کا رشتہ صرف میری ذات (برادری/نسل) کی بنیاد پر رد کر دیا گیا ہے، اور اب مجھ پر زبردستی دوسرا رشتہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم دونوں بالغ ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا والدین کی اجازت کے بغیر—جب کہ انکار صرف ذات کی بنیاد پر ہو—آن لائن یا خود نکاح کرنا شرعاً جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کیلئے متعاقدین(لڑکا،لڑکی)یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجودہونالازم اور ضروری ہے،اس لئے ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن ایجاب و قبول کرنا مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہ ہوگا،جبکہ والدین کی اجازت ورضامندی کے بغیر کیا ہوا عقدِ نکاح اگر مہرِ مثل کے ساتھ اپنے کفو(ہم پلّہ خاندان) میں ہو ،تو اگرچہ شرعاً منعقد ہوجاتاہے،لیکن چونکہ والدین کی اجازت و رضامندی کے بغیر منعقد ہونے والے رشتے عموماً جدائی اور علیحدگی پر منتج ہوتے ہیں،لہٰذا نکاح اور شادی جیسا عظیم معاملہ والدین کی اجازت و رضامندی کے بغیر انجام دینے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الترمذي: عن ابن عباس رضی الله عنهما أن رسول اللہ ﷺقال الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأذن في نفسها واذنها صما تھا۔ ھذا حدیث حسن صحیح،(باب ماجاءفی استئمار البکر والثیب، ج : ا،ص: ٤٣٧، م :البشری۔)
وفي الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول : اتحاد المجلس لو حاضرين وإن طال كمخيرة،ص: ١٤۔ و فيه ايضاً : (وهو) ای الولی (شرط) صحة (نكاح صغیر و مجنون و رقیق) لا مكلفة ا(فنفد نكاح حرة مکلفة بلا ) رضا (ولى )والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا ،(وله)أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء۔(كتاب النکاح، باب الولی ، ج: ٣،ص: ٥٥، ٥٦،م : سعيد)
وفي التاتارخانية: من شرائط النکاح الشهادة عندنا، وفي نصاب الذرائع وشرطہ أن يكون كلا شطریہ بحضور شاهدین حرین عاقلين بالغين مسلمين أو حضور رجل وامرأتين وفي الخانية: ولا ينعقد بشهادة امراتین بغیر رجل ۔ ص: ۳۶ - وفيہ ايضا : المرأة إذا جاءت إلى رجل وقالت أريد أن أزوج نفسي وليس لي ولي قال محمد رحمه الله ولو جاءت إلى القاضي يزوجها فانّ عند أبي حنيفة رحمه الله النكاح بغير اذن الولي جائز سواء كانت ثيّباً أو بكراً - (كتاب النكاح ،ج : ٣ ص : ۸۸، م رشيدية۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84837کی تصدیق کریں
0     273
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات