مجھے اپنی بیٹی کے لئے آپ سے شرعی فتویٰ چاہئے ، میری بیٹی کی عمر آٹھ سال ہے ، میری سابقہ بیوی نے 24/10/2019 کو مجھے خلع کا پہلا سمن بھیجا، جو میں نے وصول کیا، اس کے بعد 6/11/2019 کو دوسرا سمن بھیجا، جو میں نے وصول کیا، اس کے بعد 27/12/2019 کو ایک آدمی سے نکاح کر لیا، میں اپنی بیٹی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی وہاں اس غیر مرد کے پاس رہے، میں چاہتا ہوں آپ شرعی طریقہ سے میری رہنمائی کریں، میری سابقہ بیوی کا اس آدمی سے بہت ٹائم سے تعلقات تھے ، جو میری بیٹی نے مجھے بتایا ، وہ میری بیٹی کو ذہنی ٹارچر کرتی ہے ، جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو جاتی ہے ، بیمار ہو جاتی ہے ، میں اپنی بیٹی کو اس عورت سے دور رکھنا چاہتا ہوں ، تا کہ اس معصوم کی اچھی پرورش کر سکوں، آپ سے التماس ہے میری راہ نمائی فرمائیں ؟
وضاحت: عدالت میں خلع کا کیس کرنے سے پہلے انہوں نے میرے پاس طلاق نامہ بمطالبہ خلع کے نام سے طلاق کے پیپر بھیج دیے تھے ، لیکن میں نے اس پر دستخط نہیں کیے ، ابھی ان کا عدالت میں کیس چل رہا ہے ، مجھے دو نوٹس ملے، لیکن میں ابھی تک گیا نہیں ہوں، اور نہ ابھی تک عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی ہے ، اور میری بیوی نے دوسر انکاح کر لیا ہے ، اور رخصتی بھی ہو گئی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کا اس طرح نکاح کرنا درست ہے کہ نہیں ؟ اور اس سلسلے میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟ دوسری بات یہ ہے کہ میری بیٹی آٹھ سال کی ہے ، تو ایسی صورت میں بچی کی پرورش کا حقدار کون ہے ؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی بیوی کا بغیر طلاق و خلع لیے دوسرے مرد سے نکاح کرنا نکاح پر نکاح ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے ، سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس مرد سے فورا علیحدگی اختیار کرے، اور اب تک جو گناہ ہوا ہے، اس پر بصدق ِدل تو بہ واستغفار بھی کرے، لیکن اگر سائل کی بیوی اب بھی دوسرے مرد سے علیحدگی اختیار کر کے سائل کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو سائل اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے، جبکہ سائل اپنی بیٹی کو بہر صورت اپنی تحویل میں لے کر اس کی پرورش کر سکتا ہے۔
كما في صحيح البخاري: عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك للجماعة " اھ (9/ 5)۔
و في أحكام القرآن: قال أصحابنا أنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين اھ(۲/ ۱۹۱) ۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: ما لم يعقل ذلك) أي ما لم يعقل الولد حالها (إلى قوله) والحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل فينزع منها كالكتابية اھ(3/ 556)۔