نکاح

شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
84964
| تاریخ :
2025-08-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح کا حکم

اگر شوہر مرتد ہوجائے اور ارتداد کا اقرار بھی سب کے سامنے کرلے تو بیوی پر عدت ہوگی یانہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کسی عورت کا شوہر معاذاللہ اسلام سے پھر جائے اور مرتد ہو جائے، تو اس کے سبب میاں بیوی کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے، اور اگر ان کے درمیان خلوتِ صحیحہ پائی گئی ہو،یا باقاعدہ رخصتی ہوچکی ہو، تو عورت پر عدت گزارنا بھی لازم ہوتاہے۔اور اگر خلوت صحیحہ نہ پائی گئی ہو یاباقاعدہ رخصتی عمل میں نہ آئی ہو تو عورت پر عدت گزارنا لازم نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر الختار: (وارتدا أحدھما) أی الزوجین (فسخ) فلا ینقض عددا (عاجل) بلا قضاء (فللموطوءۃ) ولو حکما (کل مھر) لتأکدہ بہ (ولغیرہ نصفہ) لو مسمی أو المتعۃ (لو ارتدا) وعلیہ النفقۃ العدۃ الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ بلا قضاء) أی بلا توقف علی قضاء القاضی وکذا بلا توقف علی مضی عدۃ فی المدخول بھا کما فی البحر (إلی قولہ) (قولہ وعلیہ نفقۃ العدۃ) أی لو مدخولا بھا إذ غیرھا لا عدۃ علیھا وأفاد وجوب العدۃ سواء ارتدا أو ارتدت بالحیض أو بالأشھر لو صغیرۃ أو آیسۃ أو بوضع الحمل کما فی البحر الخ (باب نکاح الکافر، ج: 3، ص: 193،194، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: ارتد أحد الزوجین عن الاسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق فی الحال قبل الدخول وبعدہ ثم ان کان الزوج ھو المرتد فلھا کل المھر ان دخل بھا ونصفہ ان لم یدخل بھا الخ (الباب العاشر فی نکاح الکفار، ج: 1، ص: 339، ط: ماجدیہ)۔
وفی الشامیۃ: (قولہ إذا وطئت المعتدۃ) أی من الطلاق أو غیرہ در منتقی وکذا المنکوحۃ إذا وطئت بشبھۃ ثم طلقھا زوجھا کان علیھا عدۃ أخریٰ وتداخلتا کما فی الفتح وغیرہ الخ (باب العدۃ، ج: 3، ص: 518، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84964کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات