السلام علیکم حضرت مفتی صاحب! عابد کی شادی کو تقریبا 16 سال ہو گئے ہیں ،دونوں میاں بیوی کی ازدواجی زندگی بہت اچھی اور مثالی گزر رہی تھی ،ان کے دو بچے ہیں ایک بیٹی 2 سال کی اور بیٹا 14 سال کا، تقریبا تین سال پہلے عابد نے بیوی اور فیملی کو بتائے بغیر دوسرا نکاح کر لیا جو کہ آج سے چار ماہ پہلے فیملی کو پتہ چلا ،جس لڑکی سے نکاح کیا ہے وہ لڑکی گزشتہ 16 سال سے ہی عابد کے پیچھے لگی ہوئی تھی کہ کسی طریقے میں اسے حاصل کر لوں، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، اب اس وقت عابد کے گھر انتہائی کشیدگی چل رہی ہے، عابد کی پہلی بیوی اس بات کو قبول کرنے سے مکمل انکاری اور دلبرداشتہ ہے جس کی وجہ سے وہ دو مرتبہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش بھی کر چکی ہے، عابد کے بچے انتہائی ڈپریشن میں ہیں اور اپنے والد کے اس اقدام کی وجہ سے سخت ناراض ہیں، عابد کہتا ہے کہ میں نے شریعت کے مطابق نکاح کیا ہے ،میں دوسری بیوی کو طلاق نہیں دوں گا جبکہ اس کی پہلی بیوی کسی قسم کا کمپرومائز کرنے اور اس دوسری خاتون کو سوکن کے طور پر قبول کرنے کو ہرگز تیار نہیں ،جبکہ ان کے دونوں بچے بھی بیمار ہیں اور ان کا علاج بھی چل رہا ہے عابد کے اپنے گھر والے اس کی والدہ بہنیں بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی اس دوسرے نکاح کے سخت خلاف ہیں اور عابد سے ناراض ہیں حتی کہ عابد کی والدہ نے کہا ہے کہ جب تک تم دوسری بیوی کو طلاق نہیں دو گے میں تمہیں معاف نہیں کروں گی، اس صورتحال میں اس وقت تین خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں، نمبر 1 پہلی اہلیہ کے گھر والے، نمبر 2 عابد کے گھر والے ،نمبر 3 عابد کی دوسری اہلیہ کے گھر والے خاندان کے بڑوں نے عابد کو سمجھایا کہ پہلی 16 سالہ رفاقت والی بیوی اور جوان بچوں کے ہوتے ہوئے تم نے جو دوسرا نکاح کیا ہے اس کو ختم کر دو ،اسی میں تمہارے بیوی بچوں کی بھلائی ہے اور تمہارے گھر کا سکون دوبارہ بحال ہو سکتا ہے، ان کے دوسرے نکاح سے پورے خاندان میں فتنہ پھیل چکا ہے جس چیز میں اتفاق اور انصاف نہ ہو فتنہ ہی فتنہ ہو اس فتنے کا سر قلم کر دینا ہی عقلمندی ہے، ان ساری باتوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد عابد کا آپ سے سوال ہے کہ مجھے شریعت کی روشنی میں کوئی ایسا حل اور وضاحت فرمائیں کہ جس وجہ سے میں دوسری بیوی کو طلاق دے دوں اور اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار سکوں ۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں اگرچہ مرد کو چار تک عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ ان کے درمیان حقوق کی ادائیگی اور عدل کرنے پر قادر ہو ورنہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا حکم ہے، تا ہم نکاح کرنے کا مقصد چونکہ میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ پرسکون رشتہ کا قیام ہے اور جہاں دوسری اور تیسری شادی فریقین کے لیے سکون کے بجائے ذہنی اذیت پریشانی اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے عداوت اور دشمنی کا باعث بن رہی ہو، وہاں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے موقع پر یہ اقدام کرنے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کیا جائے، لہذا صورت مسئولہ میں اولا تو عابد کو دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی بچوں اور والدین کو اعتماد میں لے کر اقدام کرنا چاہیے تھا تاکہ اسے موجودہ صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑتا ثانیاً جب انہوں نے ان لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر نکاح کر لیا ہے تو اس کی پہلی بیوی بچوں اور والدین کو چاہیے کہ اس رشتہ کو قبول کر کے اس کے لیے مزید پریشانیاں اور رکاوٹیں پیدا نہ کریں تاکہ ان کی وجہ سے کسی خاتون پر مطلقہ ہونے کا داغ نہ لگے لیکن اگر حتی المقدور کوششوں کے باوجود دونوں خاندانوں کے لیے عابد کا دوسرا رشتہ برقرار رکھنا اور اس کی حقوق کی پاسداری ممکن نہ ہو، بلکہ اس کی وجہ سے پہلی بیوی بچوں یا دوسری بیوی کی حق تلفی ہو رہی ہو، تو ایسے مجبوری کی صورت میں عابد دوسری بیوی کو طلاق دے کر اس رشتہ کو ختم کر سکتا ہے۔
قال اللہ تعالٰی: (وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامٰی فانکحو ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث ورُبٰع)۔ (النساء: ۳)۔
و فی سنن أبي داود: (عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل)۔ (كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساء، ج:2، ص:297، ط:حقانية)۔