میں ایک 47 سالہ غیر شادی شدہ عورت ہوں جو اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہے ۔ میرے والد مر چکے ہیں اور ماں زندہ ہے لیکن بہت کمزور اور بوڑھی ہے ۔ اسے کمر کا مسئلہ ہے (مستقل طور پر جھکا ہوا) اور وہ پارکنسن میں بھی مبتلا ہے ۔ ہمارے ماموں جو ذہنی طور پر معذور ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہ رہے ہیں اور انتہائی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ مجھے یا میری ماں کو اسے کھانا کھلانا ، نہانا اور لباس پہننا پڑتا ہے ۔ ہم ایک متوسط طبقے کے خاندان سے ہیں ۔ میرے 4 بہن بھائی ہیں ۔ مجھ سے بڑی بہن بھی غیر شادی شدہ ہے (اپنی مرضی سے) اور نوکری کرتی ہے ۔ میرے چھوٹے بھائی شادی شدہ ہیں ، ایک ہمارے ساتھ رہتا ہے اور دوسرا دوسرے شہر میں ۔ اگرچہ ، میں شادی کرنا چاہتي ہوں لیکن قدرے زیادہ وزن کی وجہ سے (ناقابل علاج ہارمونل مسائل کی وجہ سے) رشته کے لیے آنے والے لوگ مجھے مسترد کرتے ہیں اور میری بہن کا انتخاب کرتے ہیں ، جو خود شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ، جس کے نتیجے میں ان کی واپسی ہوتی ہے ۔ میں ایک مقامی یونیورسٹی میں لیکچرر کے طور پر بھی کام کر رہي تھي ، لیکن 12 سال پہلے میں نے شادی کرنے اور اللہ نے ایک عورت کے لیے جو زندگی منتخب کی ہے اسے گزارنے کی امید میں تمام ملازمتیں چھوڑ دیں ، لیکن یہ کام نہیں ہو سکا ۔ لہذا ، وقت کو استعمال کرنے کے لئے ، میں نے اپنے Ph.D کا مطالعہ کیا. اب ، میں نے بھی نوکری کے لیے کوشش کی ، لیکن میں اپنی عمر کی وجہ سے ناکام رہي ۔ میرے لیے اپنی بہن کی آمدنی پر انحصار کیے بغیر اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ، کیونکہ میرے بھائیوں کی آمدنی صرف ان کے اپنے خاندانوں کے لیے کافی ہے ۔ میں نے پہلے اپنی نوکری اس وجہ سے چھوڑ دی تھی کہ مجھے احساس ہوا کہ میں غیر محرموں سے بات کرتي تھي جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے ۔ بعد میں ، میں نے اپنی نوکری چھوڑنے کے بعد ان سے تمام رابطے منقطع کر دیے اور خاموش رہنے کی کوشش کی جو میری فطرت میں نہیں ہے کیونکہ میں بات چیت کرنے والي اور زندہ دل شخص ہوں ۔ کئی سالوں کے بعد ، ان میں سے کچھ نے مجھے ڈھونڈ لیا اور میں نے ان سے دوبارہ بات کرنا شروع کر دی صرف اس وجہ سے کہ میں نہیں چاہتي کہ کسی کو یہ محسوس ہو کہ میں ان کے ساتھ بدتمیزی کر رہي ہوں ۔ وہ سب مجھ سے بہت چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی وہ مرد ہیں اور میں ان سے بات کرنے پر خودكومجرم محسوس کرتي ہوں کیونکہ میں اپنے مذہب کی عائد کردہ حدود کو توڑ رہي ہوں ۔ لیکن ہم اپنی چیٹس میں کبھی بھی فحش باتیں نہیں کرتے ، نہ ہی یہ چیٹس اکثر ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ، میں پہلے کبھی میسج یا کال نہیں کرتي ۔ میں صرف انہیں جواب دیتي ہوں ،میں صرف یہ پوچھنا چاہتي ہوں کہ کیا اس عمر میں مجھے شادی کا کوئی موقع ملتا ہے (کیونکہ مجھے دوسری شادی کے امیدواروں پر کوئی اعتراض نہیں ہے) کیا مجھے اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ، یا کیا میں اپنی ماں اور اپنے ماموں کی خدمت کرنا پسند کروں کیونکہ میرے بھابیاں صرف اپنی ماں کی خدمت کرنے کو تیار ہیں لیکن اپنے ماموں کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتيں ۔ کیا خدا میرے لیے بزرگوں کی خدمت کرنا پسند کرتا ہے یا میری جذباتی اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شادی کرنا پسند کرتا ہے ؟ براہ کرم میری رہنمائی کریں ۔ میں الجھن میں ہوں ۔
واضح ہوکہ شریعت مطہرہ نےمرد و عورت دونوں کو نکاح کی ترغیب دیتےہوئے نکاح کو عفت و سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اوراحادیث طیبہ میں ہم پلہ رشتہ دستیاب ہوجانے کے بعدبلاوجہ شرعی نکاح میں تاخیرکرنے کوناپسندیدہ فعل اورفسادالارض کے مترادف قراردیاگیاہے،لہذاسائلہ کو مناسب اور دیندار رشتہ میسر آجائے، تو ایسی صورت میں نکاح کرنے میں بالکل تاخیرنہ کرے۔تاہم جب تک مناسب رشتہ میسر نہ ہو تو سائلہ کا والدہ اور ماموں کی خدمت میں لگے رہنا بلاشبہ عظیم نیکی اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے،لیکن ماموں کی خدمت کرتے وقت اس کے اعضاء مستورہ دیکھنا یا اسے ہاتھ لگانا جائز نہیں۔
جہاں تک غیر محرم مردوں سے غیر ضروری گفتگو یا چیٹ کا تعلق ہے تو یہ شرعاً واخلاقاًناجائزاورناپسندیدہ عمل ہے، چنانچہ سائلہ پر اس قسم کے تمام غیر ضروری روابط کو ترک کرنالازم ہے اوراگربالفرض کسی معاملہ میں مجبورا بات چیت کی نوبت پیش آبھی جائےتو سائلہ کوچاہیےکہ صرف ضرورت کی حدتک، باوقار اورمختصر جواب تک محدود رہے۔بے مقصداورغیرضروری بات چیت کرنے سے احترازلازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی فی التنزیل : وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ 32 [النور: 32]
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ [الروم: 21]
و فی سنن الترمذي» : عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاثة حق على الله عونهم: المجاهد في سبيل الله، والمكاتب الذي يريد الأداء، والناكح الذي يريد العفاف ":»(4/ 184)
و فیہ ایضا:: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض، وفساد عريض»(3/ 386)
و فیہ ایضا :عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا "»(1/ 320)
و فی سنن ابن ماجه» : عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النكاح من سنتي، فمن لم يعمل بسنتي فليس مني، وتزوجوا، فإني مكاثر بكم الأمم، ومن كان ذا طول فلينكح، ومن لم يجد فعليه بالصيام، فإن الصوم له وجاء»(1/ 592 ت عبد الباقي)
و فی شرح سنن ابن ماجه للسيوطي وغيره» : فمن لم يعمل بسنتي أي اعرض عن طريقتي استهانة وزهدا فيها لا كسلا وتهاونا فليس مني أي من اشياعي كذا في المرقاة قال في الفتح المراد بالسنة الطريقة لا التي مقابل الفرض والرغبة عن الشيء الاعراض عنه الى غيره والمراد من ترك طريقتي وأخذ طريقة غيري فليس مني ولمح بذلك الى الطريقة الرهبانية فإنهم الذين ابتدعوا التشديد كما وصفهم الله تعالى وقد عابهم بأنهم ما دعوا بما التزموها وطريقة النبي صلى الله عليه وسلم الحنيفية السمحاء فيفطر ليتقوى على الصيام وينام ليتقوى على القيام ويتزوج لكسر الشهوة واعفاف النفس وقوله فليس مني ان كانت الرغبة عنه بضرب من التأويل يعذر صاحبه فيه فمعنى انه ليس مني أي ليس على طريقتي ولا يلزم ان يخرج وان كانت الرغبة اعراضا فمعنى ليس مني على ملتي لأن اعتقاد ذلك نوع من الكفر انتهى مع اختصار»(ص133)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» : (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا»
(قوله: سنة مؤكدة في الأصح) وهو محمل القول بالاستحباب وكثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة وقيل: فرض كفاية، وقيل واجب كفاية وتمامه في الفتح، وقيل واجب عينا ورجحه في النهر كما يأتي قال في البحر ودليل السنية حالة الاعتدال الاقتداء بحاله صلى الله عليه وسلم في نفسه ورده على من أراد من أمته التخلي للعبادة كما في الصحيحين ردا بليغا بقوله «فمن رغب عن سنتي فليس مني» كما أوضحه في الفتح. اهـ.
وهو أفضل من الاشتغال بتعلم وتعليم كما في درر البحار وقدمنا أنه أفضل من التخلي للنوافل (قوله: فيأثم بتركه) لأن الصحيح أن ترك المؤكدة مؤثم كما علم في الصلاة بحر، وقدمنا في سنن الصلاة أن اللاحق بتركها إثم يسير وأن المراد الترك مع الإصرار وبهذا فارقت المؤكدة الواجب، وإن كان مقتضى كلام البدائع في الإمامة أنه لا فرق بينهما إلا في العبارة.(3/ 7)