کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص کے بھانجے نے اس کی بیوی کے ساتھ غلط تعلقات قائم کئے ، اب آیا کہ اس شخص کے اور اس کی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں ؟ اور کیا شوہر کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینا ضروری ہے ؟ اس لیے کہ شوہر تو طلاق دینا نہیں چاہتا، لیکن اس کی بیوی طلاق لینے پر اس کو مجبور کر رہی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اس غلط حرکت کی وجہ سے میں آپ کے ساتھ آنکھ ملانے کے قابل بھی نہیں۔ مہربانی فرما کر شرعی طور پر اس کا کوئی حل بتائیں۔
مذکور شخص کی بیوی اور اس کا بھانجا انتہائی قبیح حرکت اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، شریعت مطہرہ میں ایسے افراد کے لیے جرم ثابت ہونے پر انتہائی سخت سزا مقرر ہے، تاہم ان کے اس حرکت کی وجہ سے مذکور شخص کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، اور نکاح حسب سابق بدستور قائم ہے، البتہ مذکور لڑکے کے لیے اپنی اس ممانی کی اولاد سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا ہے۔
مذکور خاتون نے اگر اپنے اس قبیح حرکت پر نادم ہو کر صدق دل سے اللہ کے حضور توبہ کیا ہو ، اور اس کے شوہر کو اپنی بیوی کی ندامت اور توبہ پر اطمنان ہو اور اپنی بیوی کو رکھنا بھی چاہتا ہو تو اس کے لیے شرعاً ایسا کرنا بھی درست ہے، اور اس پر اپنی بیوی کو طلاق دینا ضروری اور لازم نہیں، ورنہ ایسی عورت کو طلاق دیکر اپنی زوجیت سے فارغ کر دینے میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں۔
ففي الفتاوى الهندية: وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا كذا في فتاوى قاضي خان فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا كذا في فتح القدیر اھ (1/ 274) ( كتاب النكاح المحرمات)۔
وفى الدر المختار: و في الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته اھ (3/ 34)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: و في الخلاصة إلخ) هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة اھ (3/ 34)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا فجر بامرأة ثم تاب يكون محرما لابنتها لأنه حرم عليه نكاح ابنتها على التأبيد وهذا دليل على أن المحرمية تثبت بالوطء الحرام وبما تثبت به حرمة المصاهرة كذا في فتاوى قاضي خان (كتاب النكاح المحرمات) (1/ 277)۔
و فى الدر المختار: (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. (3/ 227تا 229) (اول كتاب الطلاق)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط (قوله أو تاركة صلاة) الظاهر أن ترك الفرائض غير الصلاة كالصلاة، وعن ابن مسعود لأن ألقى الله تعالى وصداقها بذمتي خير من أن أعاشر امرأة لا تصلي ط (قوله ومفاده) أي مفاد استحباب طلاقها وهذا قاله في البحر (ايضاً). (3/ 229) والله اعلم بالصواب