مجھے پوچھنا تھا کیا شیعہ سنی کا نکاح ہو سکتا ہے ؟ اور اگر ہو سکتا ہے تو کیا اس کے لیے کوئی شرائط ہوتی ہیں یا ویسے کر سکتے ہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے اس میں ؟
واضح ہو کہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقہ کے عقائد ونظریات بھی مختلف ہیں، اس لیے شیعوں کے ساتھ مناکحت وغیرہ اختیار کرنے کے بارے میں تفصیل ہے، وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں کہ مثلاًحضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو ،یا قرآنِ کریم میں تحریف کا قائل ہو، یا جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآنِ کریم کے صریح امر کے مخالف کفریہ عقیدہ رکھتاہو، تو وہ بلاشبہ کافر ہیں، اور ایسے عقائد کے حامل شیعہ مرد یا عورت سے کسی سنی العقیدہ مرد یا عورت کا نکاح جائز نہیں، اور اگر کوئی شیعہ مرد مذکور بالا عقائد کا حامل نہ ہو، تب بھی وہ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا چونکہ کفوء نہیں ،اس لیے کسی سنی العقیدہ لڑکی کا ایسے شیعہ مرد سے نکاح کرنے سے اجتناب چاہیئے۔
کما فی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنھا أو انکر صحبۃ الصدیق رضی اللہ عنہ أو إعتقد الألوھیۃ فی علیّ رضی اللہ عنہ او أن جبرائیل علیہ السلام غلط فی الوحی أو نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن الخ (ج: 4 ،ص:237، ط: سعید )۔
و فیہا أیضاً: ولا یخفی أن قولہ یا رافضی بمنزلۃ یا کافر أو یا مبتدع فیعزر لأن الرافضی کافر إن کان یسب الشیخین مبتدع إن فضل علیاً من غیر سب الخ (ج:4، ص: 70،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: الرافضی إذا کان یسب الشیخین و یلعنھما و العیاذ بااللہ فھو کا فر و إن کان یفضل علیا کرم اللہ وجھہ علی أبی بکر رضی اللہ تعالی عنہ لا یکون کافرا إلا أنہ مبتدع و المعتزلی مبتدع إلا إذا قال بإستحالہ الرؤیۃ فحینئذ ھو کافر کذا فی الخلاصہ و لو قذف عائشۃ رضی اللہ تعالی عنھا بالزنا کفر باللہ (إلی قولہ) من أنکر إمامۃ أبی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ فھو کافر و علی قول بعضھم وھو مبتدع و لیس بکافر و الصحیح أنہ کافر و کذلک من أنکر خلافۃ عمر رضی اللہ تعلی عنہ فی أصح الأقوال الخ( ج 2، ص264، ط ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: ومنھا اسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤمنۃ الکافر لقولہ تعالی:(ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا )(البقرہ 221 )ولأن فی إنکاح المؤمنۃ الکافر وقوع المؤمنۃ فی الکفر لأن الزوج یدعو ھا إلی دینہ ،و النساء فی العادات یتبعن الرجل فیما یؤثرون من الافعال و یقلدونھم فی الدین الیۃ وقعت الإشارہ فی آخر الآیۃ بقولہ عزوجل (أولئک یدعون إلی النار)(البقرہ :221)لأنھم یدعون المؤمنات الی الکفر ،والدعاء الی الکفر دعاء الی النار لأن الکفر یو جب النار فکان نکاح الکافرالمسلمۃ سبباً داعیا الی الحرام فکان حراماً الخ ( ج: 2 ، ص:271 ، ط: سعید )۔