میں نے اپنی پہلی بیوی اور والدین کو اطلاع دے کر دوسرا نکاح کیا، تاہم ملک کے موجودہ قانون کے مطابق پہلی بیوی سے تحریری اجازت نہیں لی۔ اب میری پہلی بیوی مجھے اجازت دینے پر آمادہ نہیں، تاکہ میں اپنی دوسری بیوی کو قانونی حق دے سکوں۔ میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا، لیکن گزشتہ دو سال کے دوران اس کے رویے کی وجہ سے میرا پورا خاندان میرے خلاف ہو گیا ہے۔ لہٰذا میں نے اپنی پہلی بیوی کو اختیار دے دیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مجھے چھوڑ سکتی ہے، میں اسے اس کا حق مہر اور ماہانہ اخراجات دوں گا، لیکن وہ بھی علیحدگی پر آمادہ نہیں ،ان حالات کے باعث میرے دل سے اس کی عزت ختم ہو چکی ہے اور میں اس سے جسمانی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم، جسمانی تعلق کے علاوہ میں تمام ذمہ داریاں پوری کر رہا ہوں، جن میں راولپنڈی میں ایک باعزت رہائش، اس کی مرضی کے مطابق ماہانہ اخراجات شامل ہیں۔اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت ان حالات میں کیا حکم دیتی ہے؟ کیونکہ اسلامی تعلیمات کے پیشِ نظر میں اپنی دوسری بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا اور پہلی بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق کے سوا تمام حقوق ادا کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کھلے عام ہر چیز دینے کی پیشکش کی ہے سوائے جسمانی تعلق کے کیونکہ اس کے گزشتہ رویے کے باعث میں اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کے قابل نہیں رہا۔رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے مرد کو ایک سے زائد (زیادہ سے زیادہ چار) عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ برابری قائم رکھے۔ اگر عدل ومساوات نہ رکھ پانے کا خوف ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک مرد کی دوسری شادی کا تعلق ہے، تو اس کے لیے شرعاً پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے دوسری شادی کرلی ہے، تو اب اس پر لازم ہے کہ دونوں بیویوں کے درمیان مکمل عدل و انصاف کے ساتھ برتاؤ کرے، خصوصاً رہائش، نان نفقہ، وقت کی تقسیم اور دیگر معاشرتی حقوق میں برابری کا اہتمام کرے۔البتہ جسمانی تعلق (ہمبستری) میں برابری شرعاً لازم نہیں، لیکن بہتر اور موزوں یہی ہے کہ سائل وقتاً فوقتاً اپنی پہلی بیوی سے بھی جسمانی تعلق رکھے، تاکہ بیوی کی دل آزاری نہ ہو اور میاں بیوی کے تعلقات میں تلخیاں پیدا نہ ہوں۔اسی طرح سائل کی پہلی بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رویے میں سختی یا بدسلوکی نہ کرے، تاکہ اس کی ازدواجی زندگی سکون ومحبت کے ساتھ خوشگوار گزرے۔
قال اللہ تعالیٰ: و إن خفتم الا تقسطوا فی الیتمیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و ربٰع فإن خفتم الا تعدلوا فواحدہ او ما ملکت أیمانکم ذٰلک ادنی الا تعولوا(سورت النساء آیت نمبر 3 )۔
وفی سنن أبی داؤد: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال من کانت لہ امرأتان فمال إلی إحداھما جاء یوم القیامۃ وشقہ مائل الخ (باب فی القسم فی النساء، ج: 1، ص: 897، ط: البشری
وفی الدر المختار: (یجب) و ظاھر الآیۃ أنہ فرض نھر (أن یعدل)أی أن لا یجوز (فیہ) أی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ (و فی الملبوس و المأکول) و الصحبۃ (لا فی المجامعۃ) کالمحبۃ بل یستحب الخ
وفی رد المحتار: (قولہ وفی الملبوس والمأکول) أی والسکنی ولو عبر بالنفقۃ لشمل الکل ثم إن ھذا معطوف علی قولہ فیہ وضمیرہ للقسم مراد بہ البیتوتۃ بقرینۃ العطف وقد علمت أن العدل فی کلامہ بمعنی عدم الجور لابمعنی البیتوتۃ فإنھا لاتلزم فی النفقۃ مطلقاً قال فی البحر: قال فی البدائع یجب علیہ البیتوتۃ الحرتین والأمتین فی المأکول والمشروب والملبوس والسکنی والبیتوتۃ (إلی قولہ) (قولہ ویسقط حقھا بمرۃ) قال فی الفتح واعلم أن ترک جماعھا مطلقا لا یحل لہ صرح أصحابنا بأن جماعھا أحیانا واجب دیانۃ لکن لا یدخل تحت القضاء والإلزام الإ الوطأۃ الأولیٰ ولم یقدروا فیہ مرۃ الخ (باب القسم، ج: 3 ص: 202، ط: ایچ ایم سعید)۔