نکاح

میسج پر ایجاب و قبول کرنےسے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
85576
| تاریخ :
2025-08-25
معاملات / احکام نکاح / نکاح

میسج پر ایجاب و قبول کرنےسے نکاح کا حکم

السلام علیکم۔ میںں ایک لڑکے سے ٹیکسٹ، فون کالز اور ویڈیو کالز کے ذریعے بات کرتی تھی۔ میں نے اسے چند بار پبلک میں چند منٹ کے لیے ملاقات کی۔ میرا سوال یہ ہے:
1۔ ایک بار اس نے ٹیکسٹ کیا کہ وہ مجھے قبول کرتا ہے اور پوچھا کہ کیا میں اسے قبول کرتی ہوں۔ میں نے ایک ہی ٹیکسٹ میں کئی بار "ہاں" کہا۔ میرے پاس کوئی گواہ یا ولی نہیں تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی طرف کوئی وکیل یا گواہ تھے یا نہیں۔ کیا یہ نکاح ہے؟ کیا مجھے طلاق کی ضرورت ہے؟ بعد میں اس نے کہا "ہمارا نکاح ہو گیا"، لیکن میں نے کوئی کاغذات پر دستخط نہیں کیے اور ہمارے درمیان کوئی جنسی تعلق نہیں ہوا۔
2۔ میرے ذہن میں فون اور ویڈیو کالز پر عقد یا اِجاب و قبول کرنے کی مبہم یاد ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ یہ واقعی ہوا یا میرا ذہن خود سے بنا رہا ہے۔ میرے پاس کوئی گواہ یا ولی نہیں تھے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی طرف کوئی گواہ یا وکیل تھے یا نہیں۔ کیا یہ نکاح باطل ہے یا فاسد؟ کیا مجھے طلاق کی ضرورت ہے؟ کیا میں بغیر طلاق کے کسی اور سے شادی کر سکتی ہوں؟
میں پاکستان میں رہتی ہوں جہاں زیادہ تر لوگ فقہ حنفی کی پیروی کرتے ہیں، لیکن میں جانتی ہوں کہ نکاح کے لیے ولی کی رضا ضروری ہے۔
3۔ کیا حکومتی اہلکار جو ہمارے ٹیکسٹ پڑھ سکتے ہیں اور کالز سن سکتے ہیں، گواہ شمار ہوں گے؟ اور اگر کوئی ہماری چیٹس پڑھے تو کیا وہ گواہ بن جاتا ہے؟
جزاکِ اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

وا ضح ہو کہ شریعت مطھرہ میں نکاح کی صحت و درستگی کے لئے ایک ہی مجلس میں گواہان کی موجودگی میں مرد و عورت یا انکی جانب سے مقرر کردہ وکیلوں کا ایجاب و قبول کرنا اور اس مجلس میں موجود گواہان کا اس ایجاب و قبول کو سن لینا ضروری ہے لہذا سائلہ کا مذکور لڑکے کے ایجاب پر میسج میں قبول کر لینے سے نکاح منعقد نہیں ہوا بلکہ سائلہ بغیر طلاق لیے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے تاہم سائلہ کا ایک اجنبی لڑکے سے بات چیت اور بے تکلفی اختیار کرنا ناجائز وحرام ہے جس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیئے اس فعل سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ولا بکتابۃ حاضر بل غائب بشرط اعلام الشھود بما فی الکتاب ما لم یکن بلفظ الامر
وفی رد المختار تحت ( قولہ : ولا بکتابۃ حاضر ) فلو کتب تزوجتک فکتبت قبلت لم ینعقد اذ الکتابۃ من الطرفین بلا قول لا تکفی ( قولہ بل غائب ) الظاھر ان المراد بہ الغائب عن المجلس وان کان حاضرا فی البلد ( قولہ فتح ) ینعقد النکاح بالکتاب کما ینعقد بالخطاب و صورتہ ان یکتب الیھا یخطبھا فاذا بلغھا الکتاب احضرت الشھود و قراتہ علیھم وقالت زوجت نفسی منہ اما لو لم یقل بحضرتھم سوی زوجت نفسی من فلان لا ینعقد لان سماع الشطرین شرط صحۃ النکاح ( کتاب النکاح ، ج : 3 ، ص : 12 ، ط : سعید)
و فی الدر المختار : وشرط ( حضور ) شاھدین (حرین ) او حر و حرتین ( مکلفین سامعین قولھما معا ) ( کتاب النکاح ، ج : 3 ، ص : 23 ، ط : سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85576کی تصدیق کریں
0     110
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات