میں شادی سے پہلے کنواری تھی ،سال 2024 کی فروری میں مجھے پتہ چلا کہ میں زنا کی وجہ سے حمل میں ہوں اور نطفہ پانچ ہفتوں کا ہے،جس شخص سے میرا حمل تھا، اس نے نکاح کرنے کا کہا اور میرے والد سے میرا ہاتھ مانگا ،ہم دونوں کے علاوہ یہ بات چند دوستوں کو معلوم تھی، جبکہ ہمارے گھر والوں کو اس کے متعلق علم نہیں تھا، 7 جون 2024 کو ہمارا نکاح ہوا ور اسی سال 26 نومبر 2024 میں ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،سوال یہ ہے کہ اس نکاح کے متعلق کیا حکم ہے؟میں اپنے گناہ پر بے حد پشیماں ہوں،اس کا کفارہ کیسے ممکن ہے؟میری بیٹی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ولدیت اور میراث کے بارے میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ جس زانی کی وجہ سے مزنیہ کا حمل ٹھہرا ہو،اس زانی کے لئے اس مزنیہ کے ساتھ نکاح اور ہمبستری جائز ہے، البتہ اگر نکاح کے چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جائے ،تو اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت ہوگا اور یہی بچہ اس آدمی کی میراث کا بھی حقدار ہوگا، اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ پیدا ہو جائے ،تو نہ اس کا نسب ثابت ہوگا اور نہ اس آدمی کی میراث کا حقدار ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ کی بچی نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں پیدا ہوئی ہے ،لہذا شرعی احکام کے اطلاق میں مذکور بچی کا نہ نسب ثابت ہوگا اور نہ ہی وہ سائلہ کے شوہر کی میراث میں حقدار ہوگی۔
تاہم یہ امر ملحوظ رہے کہ بچہ بہرحال معصوم ہوتا ہے، اس پر کسی گناہ کا بوجھ نہیں ہوتا، اس کی پرورش، کفالت اور حسنِ تربیت والدین کی ذمہ داری ہے۔اس لیے سائلہ اوراس کے شوہرکوچاہیےکہ وہ اپنے سابقہ عمل پر سچی توبہ و استغفار کریں ؛ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اور ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔اوراس امرکومخفی رکھتے ہوئے پوری یکسوئی ،پیار ومحبت کے ساتھ بچی کواپنی اولادسمجھتے ہوئے اس کی پرورش اورکفالت کی ذمہ داری نبھائیں۔
کما فی الھندیۃ: ولو زنى بامرأة فحملت ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر فصاعدا ثبت نسبه وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لم يثبت نسبه إلا أن يدعيه ولم يقل إنه من الزنا أما إن قال إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه كذا في الينابيع الخ(الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج 1،ص 540،ط:ماجدیۃ)۔