نکاح

کیا بلاوجہ ناراض بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
85603
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا بلاوجہ ناراض بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا جائز ہے ؟

مفتی صاحب میری شادی 2010/ 03/ 10 کوہوئی تھی،شروع سے ہی میری زندگی میں شادی کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں تھیں ،جن کو نظر انداز کرتا رہا،ایک بار پہلے بھی میری منکوحہ جب میری ایک بیٹی تھی،اور دوسرا حمل پیٹ میں تھا،8 ماہ اپنے ماں باپ کے گھر ناراض ہوکر گزار آئی جو بہت رسوائی اٹھا کہ میں واپس لے کرآیا۔
اب جب کہ میرے 4بچے ہیں2 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں اب پچھلے ایک سال 7ماہ سے میری منکوحہ میرا حق زوجیت بھی ادا نہیں کررہی ہے اور بچے چھوڑ کر اور گھر کو چھوڑ کر 8 ماہ سے اپنے والدین کے گھر ناراض ہوکر بیٹھی ہے اور طلاق کا مطالبہ کررہی ہے،بار بار جرگہ بھیج کر دیکھ لیا پر وہ راضی نہیں ہورہی۔
میری آپ سے التماس ہےکہ مجھے میرے بچوں کی کفالت اور میری نفسانی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت فرمائی جائے تاکہ میں گناہ سے بچ سکوں ۔جزاک اللہ ۔
نوٹ: سائل نے عدالت سے معاملہ کے حل یا دوسری شادی کی اجازت کے لئے کیس کیا ہوا ہے،وکیل نے دوسری شادی کرنے کی اجازت پر فتوی مانگا ہے،لہذا رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں اگر جھوٹ اور غلط بیان سے کام نہ لیا گیا ہو،اور واقعتا سائل کی بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے سائل کے حقوق زوجیت ادا نہ کررہی ہو اور بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کررہی ہو ،تو اسکی وجہ سے سائل کی بیو ی سخت گناہ گار ہورہی ہے،اس کو چاہیےکہ شوہر کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنے گھر کو آباد کرنے کی فکر کرے،جبکہ سائل کو بھی چاہیے کہ ازخود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے بیوی کو سمجھاکر مذکور طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے،اسکے باوجود بھی اگر وہ باز نہ آئے تو سائل اس کو طلاق دیکر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرسکتا ہےتاہم اس میں جلد بازی سے کام نہ لیں،جبکہ سائل کیلئے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعا جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: فان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما (النساء:35)
وفی مقام آخر : فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلث وربع۔(النساء:3)
وفی الھدایۃ: قال الطلاق علی ثلثۃ اوجہ حسن واحسن وبدعی فالاحسن ان یطلق الرجل امراتہ تطلیقۃ واحدۃ فی طھر لم یجامعہا فیہ ویترکھا حتی تنقضی عدتھا ۔(2/354)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85603کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات