نکاح

والدین کا بیٹے کو خاندان سے باہر شادی سے منع کرنا

فتوی نمبر :
85608
| تاریخ :
2025-08-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کا بیٹے کو خاندان سے باہر شادی سے منع کرنا

حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! حضرت میں ایک جگہ نکاح کا خواہش مند ہوں اور وہ لڑکی تھوڑی پریشان حال ہے، کیو نکہ کم عمری میں ہی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، اور ابھی کچھ وقت پہلے والد بھی رخصت ہو گئے، اور گھر میں کسی کا نکاح بھی نہیں ہوا، لیکن جب میں نے اپنے والدین سے نکاح کا اظہار کیا ، تو والد کی طرف سے صرف اس لئے نہ ہوئی کہ وہ لڑکی انصاری ہے ، اور ہم شیخ زادے ،اور والدہ کے بھی یہی الفاظ تھے کہ ہمیں جھلائے ہی رہ گئے، کیا شادی کرنے کو، یعنی والدین کا انکار صرف برادری کو لیکر ہے ،اور کوئی وجہ نہیں ہے، تو کیا والدین کا اس طرح انکار کرنا شریعت اسلامی کی رُو سے جائز ہے ؟ اور انکی بات کو تسلیم کیا جائے؟ یا آپ کوئی ایسی بات بتادے جو اسلامی اعتبار سے اُنہیں بتا کر سمجھا دیا جائے،والد کا صرف یہ کہنا کہ اپنی برادری میں ہوتی تو میں ضرور کرتا یہاں نہیں کرونگا،اور اگر تمہیں کرنی ہے تو اجازت ہے، کرلو ،لیکن پھر مجھے باپ مت کہنا، ہمارے گھر سے نکل جانا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم معاشرے کو بے حیائی اور اخلاقی پراگندگی سے محفوظ رکھنے کے لئےجہاں ایک طرف مسلمان نوجوانوں کو نکاح کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کی ذمہ داری اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو، تو وہ نکاح کرلے، اس لئے کہ یہ بد نگاہی سے حفاظت کا ذریعہ اور اس میں شرم گاہ کی حفاظت ہے، وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں والدین کی ذمہ داری واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔ تاہم شریعت نے انسانوں کی مصلحت اور زوجین کے گزرانِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کفو کا اعتبار کیا ہے،لیکن اس کا اعتبار صرف لڑکے کی طرف سے ہے، یعنی لڑکا لڑکی کا کفو ہو، لڑکی کی طرف سے کفو کا اعتبار نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ جب لڑکی والوں کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے،اور لڑکا ،لڑکی بھی دونوں راضی ہے، اور اس رشتہ کو رد کرنے میں کوئی معقول عذر بھی نہ ہو، تو صرف برداری کی وجہ سے والدین کا اس رشتہ سے انکار کرنا درست طرزِ عمل نہیں، بلکہ ان کو چاہیئے کہ اس رشتہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کو بخوشی طے کریں، کیونکہ ایسا رویّہ بعض دفعہ اولاد کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے،جو کہ فتنے و فساد کا باعث بنتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح للبخاری: عن ‌عبد الرحمن بن يزيد قال: «دخلت مع علقمة والأسود على عبد الله، فقال عبد الله: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج؛ فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء (كتاب النكاح، باب من لم يستطع الباءة فليصم،ج 3،رقم 5066)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: عن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيہ( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، (الفصل الثالث،ج 2، ص 939،ط : المكتب الإسلامي بيروت)۔
وفی المرقاۃ المفاتیح: فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي - رحمه الله -: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم الخ ( كتاب النكاح، باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة،ج 5،ص 2064،ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)
و فی الھندیۃ : الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح ، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال ، كذا في البدائع الخ ( الباب الخامس في الأكفاء،ج 1، ص 290، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار : (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح، كما في الخبازية لكن في الظهيرية وغيرها هذا عنده وعندهما تعتبر في جانبها أيضا الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله أو كون المرأة أدنى) اعترضه الخير الرملي بما ملخصه أن كون المرأة أدنى ليس بكفاءة غير أن الكفاءة من جانب المرأة غير معتبرة الخ ( باب الکفاءۃ، ج 3، ص 84، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85608کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات