اگر نکاح کے بعد جنسی تعلقات قائم کیے بغیرعورت مرد سے طلاق مانگے تو مہر کے بارے میں شرعی حکم کیاہے
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان اگر خلوت صحیحہ ہو چکی ہو ،اگر چہ اس دوران ان کے درمیان ازواجی تعلق قائم نہ ہوئے ہوں ، تب بھی شوہر کی جانب سے بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں اس کے ذمہ پورے حق مہر کی ادائیگی لازم ہو گی ، البتہ خلوت صحیحہ سے قبل اگر طلاق دیدی جائے ،تو شوہر پر آدھے حق مہر کی ادائیگی لازم ہو گی ،تاہم میاں بیوی کے درمیان حق مہر کے معافی کے عوض عقد خلع پر اتفاق ہو جائے ،اور شوہر حق مہر کے عوض بیوی کو خلع دیدے ،تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ سے حق مہر ساقط ہو جائے گا۔
کما فی القرآن :﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةً وَّ مَتِّعُوْهُنَّ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۲۳۶ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى﴾ [البقرة: 236،237 ]
وفي الفتاویٰ الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين۔اھ ۔(باب المہر ،ج: 1،ص: 305)
و فیہ ایضا: ان خالعها على مهرها فان كانت المرأة مدخولاً بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وان لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء وان لم تکن مدخول بھا فان کانت قنضت مھرھا و ھو الف درھم رجع الزوج علیھا فی الاستحسان بألف و ان لم تکن قبضت فی الاستحسان یسقط المھر عن الزوج ولا یرجع علیھا بشیئ۔ (باب فی الخلعة،ج: 1،ص: 489 م: الماجدیة)