نکاح

فون پر نکاح

فتوی نمبر :
85953
| تاریخ :
2025-09-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر نکاح

میرا نکاح فون پر ہوا تھا میرا شوہر الگ شہر میں تھا اور میں الگ شہرمیں تھی اور قاری صاحب، میرا وکیل اور گواہ الگ شہر میں تھے اور فون پر قاری صاحب نےنکاح پڑھا تھا - کیا یہ نکاح درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شرعاََ نکاح کے درست انعقاد کے لئے متعاقدین یا انکے وکیلوں اور گواہوں کا مجلسِ نکاح میں موجود ہو نا اور گواہوں کا ایجاب و قبول کے الفاظ سننا لا زم اور صحتِ نکاح کے لئے شرط ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کیا تھا اور پھر ان وکیلوں نے گواہوں کی موجو دگی میں سائلہ اور اسکے شوہر کی طرف سے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا ہو تو شرعاََ یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے ، ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار:(و)شرط(حضور)شاھدین(حرین)اوحروحرتین(مکلفین سامعین قولھما معاََ)(کتاب النکاح، ج:3،ص:22مط: سعید)
وفی الھدایہ: ولا ینعقدنکاح المسلمین الابحضورشاھدین حرین عاقلین بالغین او رجل وامراتین عدولا کا نوا او غیر عدولِِ او محدودین فی القذف (کتاب النکاح،ج:2،ص:326،مط:ماجدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85953کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات