السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں ایک لڑکی کا نکاح بلوغت سے پہلے ان کے والد کی اجازت کے بغیر ان کے تایا جان نے اپنے ایک بھتیجےسے کرایا،( بچی کا والد سعودی عرب میں تھا )بلوغت کے بعد لڑکی نے دینی تعلیم حاصل کر کے فاضلہ ہوئی اور لڑکا کالج سے عصری تعلیم حاصل کر کے فاضل ہوا ،اب ب لڑکی کولڑکا پسند نہیں بوجہ عام ماحول کے، لڑکی شرعی پردہ کی پابند ہے، دونوں طرف سے خاندان کے بڑے کئی مرتبہ آپس میں جرگہ کر کے آپس میں بیٹھے لیکن لڑکا طلاق دینے پر راضی نہیں ہے، اب لڑکی عدالت جانا چاہتی ہے، تو کیا موجودہ عدالت کی یکطرفہ فیصلہ سے نکاح فسخ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اگر عدالت یکطرف نکاح فسخ کر لیں تو شرعی طورپر جائز ہوگا یا نہیں؟
واضح ہوکہ نابالغ اولاد کے نکاح کا اختیارصرف ان کے ولی کو ہوتا ہے اور ”ولی اقرب“ کے ہوتے ہوئے ”ولی ابعد“ کا کرایا ہوا نکاح ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، اگر وہ اجازت دے تو ہوجاتاہے ورنہ نہیں ، جبکہ والد شرعاً ولی اقرب ہے اور چچا ولی ابعد ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرلڑکی لکے چچا نے بلوغت سے پہلے لڑکی کے والد کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نکاح کروایاہو تو یہ نکاح لڑکی کی بلوغت سے پہلےتک لڑکی کےوالد کی اجازت پر موقوف تھا، چنانچہ اگروالد نے بعدمیں قولاً یا فعلاً اس نکاح کی اجازت نہیں دی یاصراحۃً انکار کردیا تویہ نکاح باطل ہوگیا؛
اور اگر لڑکی کےوالد نےنکاح کے بعد صراحۃً یا دلالۃً اجازت نہیں دی تھی اورنہ ہی انکار کیا ،بلکہ سکوت وخاموشی اختیار کی یہاں تک کہ لڑکی بالغہ ہوگئی توایسی صورت میں لڑکی کو شرعاً ”خیارِ بلوغ“ کا حق حاصل تھا، چنانچہ اگرلڑکی نے بالغ ہونے کے بعد نکاح کی خبر ملتے ہی اس نکاح سے انکار کردیا تو بھی ان کا نکاح باطل ہوگیا تھا،چونکہ مذکورہ بلا دوصورتوں میں نکاح منعقد ہی نہیں ہوا اس لئے مذکور لڑکی کیلئےلڑکے سے طلاق وغیرہ لینے کی ضرورت نہیں،بلکہ اس کے بغیر وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، لیکن اگر لڑکی کے چچا نے لڑکی کے والدکی اجازت سے یہ نکاح کروایا تھا یا نکاح تو والد کی اجازت کے بغیر ہواتھا ،تاہم بعد میں لڑکی کی بلوغت سے قبل والد نے اس نکاح کی اجاز ت دی تھی یا لڑکی نے بلوغت کے بعد نکاح کاعلم ہوجانے کےبعد فوری طورپر اس نکاح سے انکار نہیں کیاتھا،تو ایسی صورت میں یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے ،اب اگرلڑکی اپنے شوہر کو کسی وجہ سے ناپسند کرتی ہو اور اس بات کا یقین ہوجائے کہ کسی بھی صورت حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئےاس رشتہ کو برقرار کھنا مشکل ومحال اور نبہاؤ ممکن نہیں، تو ایسی صورت میں لڑکی کے اولیاء کو چاہیئے کہ شوہر کو سمجھا بجھا کراسے طلاق دینے پر آمادہ کرے اور شوہر کو بھی یہی چاہیے کہ جب وہ نکاح کے رشتے کو باہم خوشگواری کے ساتھ نبھتا نہ دیکھے اور یہ محسوس کرے کہ یہ رشتہ دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت اور دشوارہے تو اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے، تاکہ وہ عدت گزرنے کے بعد جہاں چاہے نکاح کر سکے، لیکن اگر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو بیوی کو چاہیئے کہ وہ شوہر کو کچھ مالی معاوضہ پیش کر کے اسے آزاد کرنے پر آمادہ کر ے ،عموماً اس غرض کے لیے عورت مہر معاف کر دیتی ہے اور شوہر اسے قبول کر کے بیوی کو آزاد کر دیتا ہے ،چنانچہ شوہر اگر بیوی کو بالعوض یا بلا عوض طلاق دیدے اور دونوں میاں بیوی کے درمیان خلوت نہ ہوئی ہو تو ایسی صورت یہ نکاح ختم ہو جائے گا اور لڑکی بغیر عدت گزارے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ازاد ہوگی ،لیکن اگر شوہر طلاق یا خلع کے لیے رضامند نہ ہو تو بغیر کسی شرعی سبب کے لڑکی کے لیے فقط پسند یا ناپسند کی بنیاد پر عدالت سے خلع کی یکطرفہ ڈگری حاصل کرنا درست نہیں اور اس سے شرع نکاح ختم نہیں ہوتا ۔
کماقال اللہ تعالیٰ : وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ، فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا افۡتَدَتۡ بِهِ، تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَا، وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ الظَّٰلِمُونَ، (سورۃ البقرۃ، الآیۃ:229)-
وفی أحكام القرآن للجصاص: لا يجوز إيقاع الطلاق من جهتهما من غير رضى الزوج وتوكيله ولا إخراج المهر عن ملكها من غير رضاها، فلذلك قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين، لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج فی الخلع أو فی التفريق ، الخ (سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج 2، ص 239، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)-
وفی الشامیۃ: تحت (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلّقا على الملك، وأما ركنه فهو كما فی البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحّق العوض بدون القبول، الخ (کتاب النکاح، باب الخلع، ج 3، ص 441، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته، وإن لم يكن من أهل الولاية بأن كان صغيرا أو كان كبيرا مجنونا جاز، وإن كان الأقرب غائبا غيبة منقطعة؛ جاز نكاح الأبعد، كذا في المحيط،(إلی قولہ) فإن زوجهما الأب والجد فلا خيار لهما بعد بلوغهما، وإن زوجهما غير الأب والجد فلكل واحد منهما الخيار إذا بلغ إن شاء أقام على النكاح، وإن شاء فسخ وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، ويشترط فيه القضاء، (إلی قولہ) ويبطل هذا الخيار في جانبها بالسكوت إذا كانت بكرا ولا يمتد إلى آخر المجلس حتى لو سكتت كما بلغت وهي بكر بطل الخيار، وإن كانت ثيبا في الأصل أو كانت بكرا إلا أن الزوج قد بنى بها ثم بلغت عند الزوج لا يبطل خيارها بالسكوت ولا بقيامها عن المجلس، وإنما يبطل خيارها إذا رضيت بالنكاح صريحا أو يوجد منها فعل يستدل به على الرضا كالتمكين من الجماع أو طلب النفقة أو ما أشبه ذلك أما لو أكلت طعامه أو خدمته كما كانت فھي على خيارها، وإذا علمت بالعقد ساعة ما بلغت لكن جهلت بثبوت الخيار فسكتت بطل خيارها، أما إذا لم تعلم بالعقد ساعة ما بلغت كان لها الخيار إذا علمت، وإذا بلغت وسألت عن اسم الزوج أو عن المهر المسمى أو سلمت على الشهود بطل خيار البلوغ، كذا في المحيط؛ ولو اجتمع لها حقان: الشفعة وخيار البلوغ تقول: أطلب الحقين ثم تبدأ في التفسير باختيار النفس، كذا في السراج الوهاج،الخ (کتاب النکاح،الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج1،ص285-286، ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الدر: (وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته ولو تحولت الولاية إليه لم يجز إلا بإجازته بعد التحول قهستاني وظهيرية،الخ
وفی الرد: تحت (قوله: توقف على إجازته) تقدم أن البالغة لو زوجت نفسها غير كفء، فللولي الاعتراض ما لم يرض صريحا أو دلالة كقبض المهر ونحوه، فلم يجعلوا سكوته إجازة والظاهر أن سكوته هنا كذلك فلا يكون سكوته إجازة لنكاح الأبعد وإن كان حاضرا في مجلس العقد ما لم يرض صريحا أو دلالة تأمل، (کتاب النکاح،باب الولي،ليس للقاضي تزويج الصغيرة من نفسه،ج3،ص81،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية،إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع،وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر، ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان،الخ (کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج 1، ص 488، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-