میری والدہ 70 سال کی ہے، اور بیس سال سےبیوہ ہے ،ہم چار بھائی بہن ہیں،جو کہ باہر ملک میں رہتے ہیں،میری ماں ملتان میں اکیلے رہتی ہے ،اب وہ چاہتی ہیں کہ وہ 70 سال کے مرد سے شادی کرے،مگر وہ چاہتی ہیں کہ یہ نکاح خفیہ رکھا جائے، عوام اور رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سے ،کیا نکاح کیا جاسکتا ہے، اگر دونوں ایجاب وقبول کریں ،بغیر کسی شواہد کے گھر پر؟
واضح ہوکہ نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے مجلسِ نکاح میں دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا بطورِ گواہ موجود ہونا اور عاقدین کے ایجاب وقبول کو سننا شرعاًلازم وضروری ہے،بغیر گواہوں کے لڑکے لڑکی کا آپس میں خفیہ طور پر ایجاب وقبول کرنےسے نکاح منعقد نہیں ہوتا ۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی والدہ کابغیر شرعی گواہان کے ازخود ایجاب وقبول کرناشرعاً جائز نہیں ،بلکہ ایسا نکاح درست منعقد ہی نہ ہوگا،البتہ اگرخاندان کے دباؤ کی وجہ سے علی الاعلان بڑے مجمعے میں نکاح کرنا مشکل ہوتوگھر کے اندر ہی دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیا جائے،تو اس طرح نکاح کے بعد دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم اس طریقہ کار میں لوگوں کو بدگمانی اورالزام تراشی کا موقع ملے گا،اس لئے نکاح کا مسنون طریقہ ہی اختیار کیا جائے ۔
کما فی الدر المختار:(وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما،(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح(فاهمين)أنه نكاح على المذهب بحر(مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين الخ ( کتاب النکاح 3 / 21 )
وفي البحر الرائق:قوله:عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) متعلق بينعقد بيان للشرط الخاص به، وهو الإشهاد فلم يصح بغير شهود لحديث الترمذي «البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن من غير بينة» ولما رواه محمد بن الحسن مرفوعا «لا نكاح إلا بشهود» فكان شرطا ولذا قال: في مآل الفتاوى لو تزوج بغير شهود ثم أخبر الشهود على وجه الخبر لا يجوز إلا أن يجدد عقدا بحضرتهم الخ
واختلف في اشتراط سماع الشاهدين معا فنقل في الذخيرة روايتين عن أبي يوسف وجزم في الخانية بأنه شرط فكان هو المذهب فلو سمعا كلامهما متفرقين لم يجز، ولو اتحد المجلس فلو كان أحدهما أصم فسمع صاحب السمع، ولم يسمع الأصم حتى صاح صاحبه في أذنه أو غيره لا يجوز النكاح حتى يكون السماع معا كذا في الذخيرة واختلف أيضا في فهم الشاهدين كلامهما فجزم في التبيين بأنه لو عقد بحضرة هنديين لم يفهما كلامهما لم يجز وصححه في الجوهرة، وقال: في الظهيرية والظاهر أنه يشترط فهم أنه نكاح واختاره في الخانية فكان هو المذهب فالحاصل أنه يشترط سماعهما معا مع الفهم على الأصح الخ(3/ 94)۔
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي: قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود اھ (كتاب النكاح 1 / 185)