السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! درج ذیل معاملہ میں آپ کی رہنمائی کی درخواست ہے، کیا غریب بچی کو جہیز کی مد میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ کیا اس زکوٰۃ کی کوئی حد بھی ہے مثلاً اگر نصاب کی مقررہ حد سے زیادہ دی جس سے زکوٰۃ لینے والا خود صاحب نصاب ہو جائے، تو اس میں ہمارے لیے تو مسئلہ نہیں؟ ہم تو یکمشت دے سکتے ہیں اس کو جہیز کے لیے؟
کسی نادار، غریب مستحق زکوٰۃ بچی کو زکوٰۃ کی مد میں جہیز کاسامان خرید کر اسے مالک وقابض بنا کر دیدینا جائز اور درست ہے، جبکہ بقدر نصاب رقم کسی ایک شخص کو ایک ساتھ زکوٰۃ دینے کو اگر چہ فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، لیکن اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
کما فی الھندیة: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله – تعالى الخ (1/170)۔
و فیھا ایضاً: إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب الخ (1/190)۔
و فی الدر المختار: (وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال) الخ (2/353)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0