نکاح

مجلس نکاح لڑکے اور لڑکی میں سے کس کے شہر میں منعقد کرنا چاہیے؟

فتوی نمبر :
87300
| تاریخ :
2025-10-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مجلس نکاح لڑکے اور لڑکی میں سے کس کے شہر میں منعقد کرنا چاہیے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میں امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں اپنے آئندہ نکاح کے بارے میں کچھ رہنمائی چاہتی ہوں، کیونکہ اس کے مقام کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جا رہا ہے،میری منگنی پہلے بھی اسی شخص سے ہوئی تھی، لیکن خاندانی اختلافات کی وجہ سے یہ رشتہ ختم کر دیا گیا تھا، الحمد للہ، اب ہم دوبارہ نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان شاء اللہ، مسئلہ یہ ہے کہ نکاح کہاں پر ہو؟ میرا منگیتر چاہتا ہے کہ نکاح اس کے شہر میں ہو، جبکہ میں چاہتی ہوں کہ یہ میرے شہر میں ہو، اور یہی میری والد (جو میرے ولی ہیں) کی بھی خواہش ہے،جب ہماری منگنی ختم نہیں ہوئی تھی، تو میرے منگیتر نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ نکاح میرے شہر میں ہوگا، مگر اب ان کا خیال ہے کہ میرے خاندان کو ان کے شہر آنا چاہیے،میں چونکہ فقہِ حنفی کی پیروکار ہوں، اس لیے میری سمجھ کے مطابق جب عورت بالغ ہو جائے تو نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کی اجازت ضروری نہیں رہتی، البتہ احترام اور خاندانی ہم آہنگی کے لحاظ سے اس کی رضامندی لینا بہتراورمستحب ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ:
فقہِ حنفی کے مطابق کیا میرے والد (ولی) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نکاح کی جگہ کے بارے میں فیصلہ کرے؟اور شرعی یا روایتی طور پر کیا یہ زیادہ مناسب ہے کہ مرد نکاح کے لیے عورت کے شہر آئے؟اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، آپ کے وقت اور رہنمائی کا بہت شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ احادیثِ مبارکہ میں آپﷺ نے مسجد میں مجلسِ نکاح منعقد کرنے کی ترغیب تو دی ہے ،لیکن یہ مجلس ِ نکاح دلہا اور لہن میں سے کس کے شہر میں منعقد ہونی چاہیئے، اس کیلئے بڑی حکمتوں کی وجہ سے کوئی لگا بندھا قانون شریعت نے نہیں دیا، بلکہ اسے فریقین کی آپس کی رضامندی،آسانی اور باہمی مشاورت پر چھوڑا ہے کہ وہ جس صورت میں سہولت سمجھیں اس پر عمل کرلیں،لہذا اگر لڑکا و لڑکی اس رشتہ کو لے کر باہم خوش ہوں، تو فقط اس چھوٹی سی بات کو لے کر ضد اور انا کا مسئلہ بنانا،اور اس طرح کی باتوں کو لے کر اولیاء کا رشتہ خراب کرنا درست طرزِ عمل نہیں،اس لئے دونوں خاندان کے افرادکو چاہیئے کہ باہمی مشاورت کرکے دونوں کیلئے جس جگہ جمع ہونا آسان ہو،اسی کا انتخاب کریں، اور ان باتوں کو بنیاد بناکر باہمی اختلافات اور مشکلات پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87300کی تصدیق کریں
0     42
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات