السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ !میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اوقاتِ نماز میں 15 ڈگری اور 18 ڈگری کا کیا فرق ہے؟ اور اس میں کونسے اوقات میں زیادہ احتیاط ہے اور کونسے زیادہ راجح ہیں ۔اور آجکل کے نماز کے اوقات کے کیلنڈر کونسے ڈگری کےمطابق بنے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں اگر پرانے فتاوے ہیں، وہ بھی ارسال فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا کثیراً۔
اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ فجر کا وقت صبحِ صادق سے شروع ہوتا ہے، اور صبحِ صادق اس سفیدی کو کہا جاتا ہے جو مشرق کی جانب سورج طلوع ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل آسمان کے کنارے پر چوڑائی میں شمالاً و جنوباً پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اسی وقت سے فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔البتہ اس بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے کہ صبح صادق کب واقع ہوتی ہے ؟ پندرہ ڈگری سورج جب افق سے نیچے ہو یا 18 ڈگری نیچے ہو ؟
چنانچہ جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ صبحِ صادق کا وقت سورج کے 18 ڈگری افق سے نیچے ہونے سے شروع ہوجاتاہے ، اس وقت ہمارے ملک میں اوقات نماز کے نقشے( کیلنڈر ) عموماً اسی قول کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔
جبکہ دوسرا مؤقف حضرت مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کا ہے کہ ان کے نزدیک صبحِ صادق اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج 15 ڈگری افق سے نیچے ہو، ان دو اقوال کے درمیان موسم اور جگہ کے اعتبار سے۱۲ منٹ سے ۲۰ منٹ تک کا فرق ہوتا ہے۔ ۱۸ درجہ کے اعتبار سے صبح صادق جلد ہوجاتی ہے اور ۱۵ کے اعتبار سے ذرا دیر سے ہوتی ہے۔ تاہم جمہور کا قول ہی اصح، راجح اور مفتیٰ بہ ہے، اسی پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔
کما فی الدر المختار:(من) أول (طلوع الفجر الثاني) وهو البياض المنتشر المستطير لا المستطيل (إلى) قبيل (طلوع ذكاء) بالضم غير منصرف اسم الشمس اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله: من أول طلوع إلخ) زاد لفظ أول اختيارا لما دل عليه الحديث كما قدمناه. (قوله: وهو البياض إلخ) لحديث مسلم والترمذي واللفظ له «لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال ولا الفجر المستطيل ولكن الفجر المستطير»" فالمعتبر الفجر الصادق وهو الفجر المستطير في الأفق: أي الذي ينتشر ضوءه في أطراف السماء لا الكاذب وهو المستطيل الذي يبدو طويلا في السماء كذنب السرحان أي الذئب ثم يعقبه ظلمة.[فائدة] ذكر العلامة المرحوم الشيخ خليل الكاملي في حاشيته على رسالة الأسطرلاب لشيخ مشايخنا العلامة المحقق علي أفندي الداغستاني أن التفاوت بين الفجرين وكذا بين الشفقين الأحمر والأبيض إنما هو بثلاث درج. اھ(قوله: إلى قبيل) كذا أقحمه في النهر، والظاهر أنه مبني على دخول الغاية، لكن التحقيق عدمه لكونها غاية مد كما سبق فلا حاجة إلى ذلك. اھ إسماعيل.اھ (کتاب الصلوۃ، ج:1، ص: 359، ناشر: سعید)-