سوال یہ ہے کہ میری شادی 2020 میں ہوئی جس میں میرے والد صاحب نے میرے بیوی کو حق مہر میں 5 تولے سونا دیا تھا۔ اس ٹائم والد صاحب نے میری ساتھ کوئی تحریری یا زبانی کوئی ایسی بات نہیں کی کہ آپ نے پھر مجھے یہ 5 تولہ سونا واپس کرنا ہے ۔ اب وہ واپس مانگ رہے ہیں کہ مجھے واپس کر دیں ، یہ میں نے دیا تھا حق مہر میں جب کہ خاوند دیتا ہے اپنی بیوی کو حق مہر میں، اب کیا کریں ۔ بیوی کہتی کہ یہ میں نہیں دیتی واپس، یہ میرا حق مہر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے باقی بہن بھائی کو بھی دیا ہے، لیکن کسی سے واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بہو کو پانچ تولہ سونا اپنے بیٹے کی طرف سے حقِّ مہر کے طور پر دیا ہو اور دیتے وقت بیٹے سے قرض یا واپسی کی صراحت نہ کی ہو ،تو ایسی صورت میں چونکہ مذکور سونا سسر کی ملکیت سے نکل کر بہو کے قبضہ و ملکیت میں داخل ہو چکا ہے، اس لیے اب سسر کا اپنے بیٹے یا بہو سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدرالمحتار : (كما في النفقة) فإنه لا يؤخذ بها إلا إذا ضمن، ولا رجوع للأب إلا إذا أشهد على الرجوع عند الأداء ،(قوله ولا رجوع للأب إلخ) أي لو أدى الأب المهر من مال نفسه لا رجوع له على ابنه الصغير، قيل لأن الكفيل لا رجوع له إلا بالأمر ولم يوجد (ج:3،ص:141)
وفی العقود الدرایۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: وفي العمادية من أحكام السفل والعلو المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ