السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرانام ۔۔۔ ہے، میں رحیم یار خان کا رہائشی ہوں ، میرے والد مدرسہ جامعہ ۔۔۔ رحیم یار خان میں بطور خادم اور مؤذن خدمت سرانجام دیتے تھے،
2015 میں میرے والد کو اچانک بلیڈ پریشر ہائی ہونے کی وجہ سے دماغ کی نس پھٹ گئی اور فالج پڑ گیا، مدرسہ جامعہ ۔۔۔۔کی کمیٹی کے تعاون سے میرے والد کو آغا خان ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا، جہاں پر علاج وغیرہ ہوا ، میرا ذاتی گھر تھا علاج کی غرض سے میں نے وہ بیچ دیا، اور کچھ عزیز و اقارب سے قرضہ لیا اورآغا خان ہسپتال سے دماغ کا علاج مکمل کروایا۔
اب میرے والد فالج اور لقوۃ کے مریض ہیں، اور چلنے پھرنے سے قاصر ہیں ، میں اکیلا کمانے والا ہوں ،چار(4) بہنیں ہیں جن کی شادیاں کرنی ہے، والد صاحب کا علاج معالجہ چل رہا ہے، والدہ کی طبیعت بھی ناساز رہتی ہے نہ میرے پاس سونا ہے نہ چاندی گھر بھی 12000 کرایہ پے رہتا ہوں اور والد کا مہینہ میڈیسن اور خوراک کا خرچہ پینتیس ہزار(35000) ہے ، گھر خرچہ بھی پینتالیس ہزار (45000)ہے اور دس لاکھ پینسٹھ ہزار (165000) کا مقروض ہوں ، جو میں نے اپنے والد کے علاج کے لئے کسی سے قرض لیا ہوا تھا، لہذا میں صدقہ زکواۃخیرات کا مستحق ہوں یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو اس کے مطابق چونکہ سائل صاحب نصاب نہیں بلکہ مقروض اور ضرورت مند ہے، اب اگر وہ سید نہ ہو تو مستحق زکوٰۃ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے زکوۃ صدقات اور خیرات لیناشرعاً جائز اور درست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدر: ای مصرف الزکاۃ و العشر و اما خمس المعدن فمصرفہ کا الغنائم (ھو فقیر و ھو من لہ ادنی شیئ ) ای دون نصاب او قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجۃ (و مسکین من لا شیئ لہ) علی المذھب لقولہ تعالی او مسکیناً ذا متربۃ ، و آیۃ السفینۃ للترحم الخ۔
و فی الرد تحت (قولہ دون نصاب ) ای نامٍ فاضل عن الدین فلو مدیوناً فھو مصرف کما یأتی ( قولہ مستغرق فی الحاجۃ ) کدار السکنی و عبید الخدمۃ و ثیاب البدنۃ و آلات الحرفۃ و کتب العلم للمحتاج الیھا تدریساً او حفظاً او تصحیحاً کما مر اول الزکاۃ و الحاصل ان النصاب قسمان موجب للزکاۃ و ھو النامی الخالی عن الدین و غیرہ فان کان مستغرقاً بالحاجۃ لمالکہ اباح اخذھا و الا حرمہ الخ ( باب المصرف، ج: 2، ص: 339، ط: سعید) ۔
و فی الھندیۃ: ( منھا الفقیر) و ھو من لہ ادنی شیئ و ھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیر تامٍ و ھو مستغرق فی الحاجۃ فلایخرجہ عن الفقر ملک نصاب کثیرۃ غیر نامیۃ اذاکانت مستغرقۃ بالحاجۃ کذا فی فتح القدیر (الی قولہ ) (و منھا المسکین) و ھو من لا شیئ لہ الخ (الباب السابع فی المصارف، ج: 1 صـ: 187، ط: ماجدیہ،)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1