نکاح

گواہوں کی موجودگی میں کئے ہوئے ایجاب و قبول کا حکم

فتوی نمبر :
88295
| تاریخ :
2025-10-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گواہوں کی موجودگی میں کئے ہوئے ایجاب و قبول کا حکم

مولوی صاحب کے علاوہ دو اور لڑکے موجود تھے بطور گواہ.
مولوی صاحب نے پہلے بتایا کہ لڑکی کا حق مہر ۲ کروڑ ہے۔ پھر لڑکے سے پوچھا کہ تمہیں اس مہر پر کوئی اعتراض تو نہیں؟
لڑکے نے کہا: نہیں"

پھر جو دو لڑکے موجود تھے، ان میں سے ایک سے پوچھا کہ تم ولی ہو؟ کیا میں اس لڑکی کا نکاح کروا دوں؟ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟
اس نے کہا کہ کرا دومجھے اعتراض نہیں
جو لڑکی کا ولی تھا، وہ لڑکی کا محرم نہیں تھا.

پھر لڑکی سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا نکاح پڑھا دوں؟
لڑکی نے کہا کہ "جی
اس نے صرف ایک حرف "جی " کہا، لیکن اس کا ارادہ واضح تھا، زیادہ نہیں بولی کیونکہ لڑکوں کی موجودگی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں بولی۔

پھر لڑکے سے پوچھا لڑکی کا نام لے کر، کیا تمہیں اس سے نکاح قبول ہے؟
تین بار پوچھا، لڑکے نے تین بار کہا" قبول ہے۔

پھر مولوی صاحب نے دعا پڑھائی اور کہا کہ مبارک ہو، نکاح ہو گیا ہے۔"

مولوی صاحب تربیت یافتہ نہیں تھا، لیکن دین کا علم رکھتا تھا۔

سوال یہ ہے کہ حنفی فقہ کے مطابق نکاح منعقد ہو گیا یا نہیں؟


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور لڑکا اور لڑکی دونوں اگر باہم کفوء اور ہم پلہ ہو اور لڑکا لڑکی نے باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیا ہو توچونکہ صحت نکاح کیلئے ضروری امور پائے گئے ہیں اس لئے یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ‌ويندب ‌إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول،(الیٰ قولہ ) وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (الیٰ قولہ) ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف الخ( کتاب النکاح،ج:3،ص:24،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً : ‌ويتولى ‌طرفي ‌النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلي( کتاب النکاح،ج:3،ص:96 مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: ‌وإذا ‌تولى ‌طرفيه فقوله زوجت يتضمن الشطرين فلا يحتاج إلى القبول.( کتاب النکاح،ج:2،ص:782،مط: مکتبۃ البشریٰ)
وفی تبیین الحقائق: قال رحمه الله (‌وينعقد ‌بإيجاب ‌وقبول وضعا للماضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح بالإيجاب والقبول بلفظين وضعا للماضي، أو وضع أحدهما للماضي، والآخر للمستقبل؛(الیٰ قولہ) قال رحمه الله (عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين)(کتاب النکاح،ج:2،ص:452،مط دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88295کی تصدیق کریں
0     39
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات