نکاح

جس عورت سے حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہو اس کی بیٹی سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
88327
| تاریخ :
2025-10-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جس عورت سے حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہو اس کی بیٹی سے نکاح کرنا

(شرعی سوال برائے فتویٰ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میرا ایک نازک اور نہایت شرمناک مسئلہ ہے جس نے مجھے سخت ذہنی و روحانی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں خیرخواہی کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

بچپن سے میرا آنا جانا اپنے ماموں کے گھر میں رہا ہے۔ اُن کے کوئی بیٹے نہیں تھے، صرف دو بیٹیاں تھیں۔ اُن میں سے ایک بیٹی میری اپنی بہن ہے جسے انہوں نے منہ بولی بیٹی بنایا ہوا ہے، اور دوسری اُن کی اپنی حقیقی بیٹی ہے۔ ماموں اور ممانی نے مجھے بھی اپنے بیٹے کی طرح پالا، پڑھایا، اور ہمارے گھر کی مالی و گھریلو ذمہ داریاں بھی زیادہ تر وہی سنبھالتے ہیں۔

میں بچپن ہی سے زیادہ تر انہی کے گھر رہتا تھا، بلکہ بعض اوقات وہیں رات گزار لیتا تھا۔ میں انہی کے گھر جوان ہوا۔ اُس زمانے میں میرے گھر والوں نے میرا رشتہ اُن کی بیٹی کے ساتھ بچپن میں ہی طے کر دیا تھا (جیسا کہ پہلے زمانے میں رسم ہوتی تھی)۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ میری اور ممانی صاحبہ کے درمیان لمس و نظر (چھونے اور بوس و کنار) تک کا غلط تعلق پیدا ہو گیا، مگر زنا کی حد تک بات نہیں پہنچی۔ بعد میں ہم دونوں نے سچی توبہ کر لی، اور اُس کے بعد سے آج تک ایسا کوئی تعلق یا گناہ دوبارہ پیش نہیں آیا۔

میرا رشتہ اُن کے گھر میں ہوئے دس سال سے زیادہ ہو چکا ہے، اور اب وہی ہمارے پورے گھرانے (میری بہنوں اور بھائیوں سمیت) کے اخراجات، تعلیم اور ضروریات کے ذمہ دار ہیں۔ میری ایک بہن اُن کے گھر منہ بولی بیٹی کے طور پر رہتی ہے۔ اگر میں اس رشتے سے انکار کرتا ہوں تو بہت بڑی آزمائش میں دونوں خاندان مبتلا ہو جائیں گے، تعلقات ٹوٹنے کا اندیشہ ہے، اور معاشرتی بدنامی و فتنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

میں خود بھی سخت ذہنی کشمکش میں ہوں۔ میرے لیے اس رشتے سے انکار کرنا نہایت مشکل ہے ، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ بات میرے لیے تقریباً ناممکن اور ناقابلِ بیان تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر میں انکار کروں تو نہ صرف میرے گھر بلکہ اُن کے پورے خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ اور شرمندگی کا باعث بنے گا۔

مزید یہ کہ میرا ایک بھائی امامِ مسجد ہے، اور جب وہ موجود نہیں ہوتے تو میں ہی ان کی جگہ نماز پڑھاتا ہوں۔ مسجد اور ہمارا گھر ایک ہی محلے میں ہے، اس لیے اگر یہ بات کبھی ظاہر ہو گئی تو نہ صرف خاندان بلکہ پورے محلے میں بدنامی اور فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا شرعی راستہ نکل سکتا ہے کہ ہم اس آزمائش سے بچ سکیں اور دونوں خاندانوں کے درمیان قطع تعلقی یا رسوائی کی نوبت بھی نہ آئے؟

میں نے سنا ہے کہ بعض اوقات مفتیانِ کرام ایسے نازک معاملات میں، اگر فتنہ، خاندان کی عزت، یا بڑے فساد کا اندیشہ ہو، تو فتویٰ میں مناسب تاویل یا تخفیف کی گنجائش نکال لیتے ہیں تاکہ شریعت کے اصول مجروح بھی نہ ہوں اور معاشرتی نقصان بھی نہ ہو۔

لہٰذا، اگر کسی مخصوص شرط کے ساتھ کوئی شرعی رخصت یا گنجائش ممکن ہو، تو براہِ کرم وہ بھی واضح فرما دیں تاکہ ہم اس آزمائش سے بحکمِ شریعت محفوظ رہ سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔

والسلام
خادمِ شرعِ مطہر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں جب سائل اور اس کی ممانی کے درمیان شہوت کے ساتھ بلا حائل بوس وکنار اور لمس کے تعلقات ہوئے ہوں اور اس دوران ہر ہر موقع پر سائل کو انزال بھی نہ ہوا ہو، تو سائل اور اس کی ممانی کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہو کر اس کی بیٹی سائل پر حرام ہو چکی ہے لہذا سائل کا اس سے ازدواجی رشتہ قائم کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، سائل کو اگر خوف ِخدا اور آخرت کی جواب دہی کا استحضار اور یقین ہو تو اس مشکل سے نکلنا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں، چنانچہ سائل اپنی ممانی کو مسئلے کی نوعیت سمجھا دے کہ ہمارےسابقہ ناجائز تعلقات کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہو چکی ہے اب میں آپ کی بیٹی سے نکاح و رشتہ نہیں کر سکتا ،اگر کرتا ہوں تو یہ حرام تعلق ہوگا، جس سے دونوں کی زندگی خراب ہوگی اور دانستہ ایسا کرنے اور زندگی بھرحرامکاری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے آخرت کی تباہی بھی یقینی ہے، اس لئے کوئی تدبیر کر کے یہ رشتہ ختم کریں تو انشاءاللہ آپس میں صلح مشورہ سےکوئی صورت نکل آئے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي البحرالرائق: (قوله ‌والزنا ‌واللمس ‌والنظر ‌بشهوة ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة)(الى قوله) ولنا: أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه، وكذلك على العكس والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة الخ(فصل في المحرمات في النكاح،ج:٣،ص:٩٨،ط:رشيديه)
وفي العقود رسم المفتى: فإن المتقدمين شرطوا في المفتي الاجتهاد، وهذا مفقود في زماننا، فلا أقل من أن يشترط فيه معرفة المسائل بشروطها وقيودها التي كثيرا ما يسقطونها، ولا يصرحون بها اعتمادا على فهم المتفقه.وكذا لا بد له من معرفة عرف زمانه وأحوال أهله والتخرج في ذلك على أستاذ ماهر اھ(الاعتبار للعرف الحادث،ص:٧٠،ط:البشرى)
وفيها ايضاََ: ثم اعلم أن كثيرا من الأحكام التي نص عليها المجتهد صاحب المذهب، بناء على ما كان في عرفه و زمانه قد تغيرت بتغير الأزمان بسبب فساد أهل الزمان، أو عموم الضرورة، كما قدمناه من إفتاء(الى قوله) فهذه كلها قد تغيّرت أحكامها لتغير الزمان إما للضرورة، وإما للعرف، وإما لقرائن الأحوال، وكل ذلك غير خارج عن المذهب اھ(تغيرالاحكام بتغير الفرف،ص:٧٨/٧٦،ط:البشرى)
وفي اصول الافتاء وآدابه:شروط الافتاء بمذهب آخر بسبب الحاجة او عموم البلوى: الاول: ان تكون الحاجة شديدة، والبلوى عامة في الامر نفسه،لامجرد الوهم بذلك اھ(الحالة الاولى الافتاء بمذهب آخر،ص:٢٤٦،ط:مكتبة المعارف القران)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88327کی تصدیق کریں
0     26
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات