میرا چھوٹا بھائی ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے جو کہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور یہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ لڑکی کہتی ہے کہ میں شیعہ چھوڑ دوں گی اور سنی/دیوبندی ہو جاؤں گی تو کیا ان دونوں کا نکاح ہو سکتا ہے؟ اور لڑکی کے گھر والے چاہتے ہیں کہ سنی/دیوبندی نکاح کے بعد شیعہ طریقہ سے بھی نکاح کرا جائے تو کیا یہ جائز اور ممکن ہے؟"
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکی اگر اپنے تمام باطل عقائد اور نظریات سے صدقِ دل کے ساتھ توبہ کر لے، اور واضح طور پر ان عقائد سے مکمل براءت کا اظہار بھی کر دے ،اور سائل کے بھائی کو بھی اس کی توبہ پر مکمل اعتماد ہو ، تو ایسی صورت میں اس کے لیے کسی سنی لڑکے سے نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے,ورنہ اس سے احتراز لازم ہے،جبکہ اس صورت میں لڑکی کا اپنے والدین کے اصرار پر سنی طریقہ کے مطابق نکاح کے بعد شیعہ طریقے کے مطابق نکاح کروانا درست نہ ہوگا ۔
كما في رد المحتار: تحت قوله ( وفي النهر إلخ) (إلى قوله) وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر اھ (3/ 46)
وفي الفتاوى البزازية: (على هامش الهندية) وإكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات الى الدنيا وبنسخ الأرواح وانتقال روح الالٰه إلى الأئمة وان الأئمة آلهة وفي قولهم بخروج امام (الی قوله) أن يخرج وبقولهم إن جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى الى محمد ﷺ دون على كرم الله وجهه اھ (6 /318)
و فی الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام وأحكامهم أحكام المرتدين كذا في الظهيرية. (2 / 264)