السلام علیکم
عزیزم ، ایک شرعی مسئلہ میں آپ کی رہنمائی درکار ہے، میری رہائش جرمنی میں ہے، اور 29 دسمبر 2024 کو میری بیٹی....کا نکاح پاکستان میں مقیم.....سے آن لائن پڑھایا گیا تھا، بوقتِ نکاح لڑکی اور والدین بمع نکاح خواں جرمنی میں تھے، لڑکی کے گواہان بھی جرمنی میں تھے، دوسری طرف پاکستان میں لڑکا اور گواہان موجود تھے، نہ تو لڑکی کا وکیل پاکستان میں تھا اور نہ ہی لڑکے کا وکیل جرمنی میں تھا، اس نکاح کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی نہیں ہے، صرف ایجاب و قبول کیا گیا، اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے قبل از رخصتی یہ تعلق آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور علیحدگی کس طرح ممکن ہے؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہوکہ نکاح کے درست انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا و لڑکی) یا ان کے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم وضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی بیٹی کا مذکور نکاح بیان کردہ طریقہ کے مطابق اس طرح منعقد کروانا کہ لڑکا اور لڑکی کے گواہان اور وکیل سب ایک مجلس میں جمع نہ ہوئے ہوں صرف آن لائن ایجاب و قبول کیا گیا ہو تو اس سے مذکور نکاح درست منعقد نہیں ہوا، لہذا سائلہ اس صورتِ حال میں اپنی بیٹی کا نکاح دوسری جگہ کرنا چاہتی ہو تو طلاق وعدت کے بغیر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
کما فی الدر المختار : و من شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين الخ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعًا تيسيرًا. اھ (کتاب النکاح ، ج: 3 ، ص: 14 ، ط: سعید)ـ
وفی الهندية : (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد، اھ (کتاب النکاح ، ج: 1 ، ص: 269 ، ط: ماجدیۃ)۔