نکاح

منکوحہ عورت کا نکاح پڑھانے پر امام کو معزول کرنا

فتوی نمبر :
88737
| تاریخ :
2025-11-11
معاملات / احکام نکاح / نکاح

منکوحہ عورت کا نکاح پڑھانے پر امام کو معزول کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں:

امام مسجد اور خطیب صاحب نے بغیر ثبوت ایک متنازع نکاح 27 رمضان شریف کو پڑھایا موصوف نے نہ طلاق نامہ طلب کیا نہ ہی خلع کورٹ دیکھا کسی کے کہنے پر نکاح پڑھا لیا ، جب کہ نکاح پڑھنے سے گھنٹہ پہلے ایک شخص بنام " بابو " آیا اور نکاح خواں سے کہا کہ یہ نکاح نہ پڑھائیں کیونکہ یہ عورت میرے بیٹے کے نکاح میں ہے اسکے بچے بھی ہیں اس وقت میرا بیٹا جیل میں ہے یہ تنازعہ مسجد کمیٹی کے پاس آیا مسجد کمیٹی نے علماء سے رجوع کیا تو پتا چلا اور تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس عورت کی طلاق نہیں ہوئی بلکہ کورٹ نے خلع گرانٹ کیا ہے اس میں بھی عدت کی مدت کو ایک ماہ باقی ہے

1 کیا خلع والی عورت یکطرفہ خلع ہے شوہر کہتا ہے کہ مجھے کسی کورٹ کی طرف سے نوٹس نہیں آیا ہے نہ گھر پر نہ ہی جیل میں یہ نکاح شرعی طرحدرست تھا

2 کیا اس متنازع امام مسجد میں امام رکھا جاسکتا ہے

3 کیا جھوٹ بولنے ، امانت میں خیانت کرنے والا عہد خانہ کرے تو اس کو امامت کے منصب میں رکھا جا سکتا ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری میں عموما عقد خلع کی بنیادی شرط (کہ زوجین کی باہمی رضامندی سےایجاب و قبول ہو) نہ پائے جانے کی وجہ سے وہ شرعا معتبر نہیں ہوتا، جس کی بنا پر بیوی بدستور شوہر کے نکاح میں ہی رہتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر امام موصوف نے عورت کی بات پر اعتماد کر کے اس کا نکاح پڑھا لیا ہو اور دوسرے شخص جس نے عورت کے منکوحہ ہونے کی خبر دی اس کی بات پر کسی بھی وجہ سے اسے اعتماد نہ ہوا ہو تو محض اس بنیاد پر اسے امامت کے استحقاق سے معزول کرنا درست نہیں۔ البتہ صورتحال واضح ہونے کے بعد بھی اگر وہ اپنی کیے کی صحت اور نکاح کے جواز پر قائم ہو تو بلا شبہ وہ معزول کیے جانے کا مستحق ہے، ان کی جگہ کسی اور متبع سنت اور مسائل میں محتاط عالم دین کے تقرر کا اہتمام کرنا چاہیے.

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الايجاب والقبول؛ لانه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقه ولا يستحق العوض بدون القبول..(ج:3،ص:145،مط:ایچ ایم سعید کراچی).
وفي رد المحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته.. لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد اصلا..(ج:3،ص:132،مط:ایچ ایم سعید کراچی).
وفي الدر المختار: وحل( نكاح من قالت طلقني زوجي وانقضت عدتي او كنت امة لفلان واعتقني) ان وقع في قلبه صدقها وتمامه في الخانيه: قلت وحاصله انه متى اخبرت بامر محتمل، فان ثقة او وقع في قلبه صدقها لا باس بتزوجها_(ج:6،ص:420،فصل في البيع،مطبع:ایچ ایم سعید کراچی).
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق :(قوله وكره امامة العبد والاعرابي والفاسق والمبتدع والاعمى وولد الزنا).. وأما الكراهه فمبنية على قلة رغبة الناس في الاقتداء بهؤلاء فيؤدي الى تقليل الجماعة المطلوب تكثيرها تكثيرا للاجر..(ج:1،ص:348).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88737کی تصدیق کریں
0     281
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات