جناب مفتی صاحب ! میری کی شادی کی تاریخ طے ہوئی ہے، 18 دسمبر 2025 میں ہونی تھی، اور اب اس کا خفیہ نکاح ظاہر ہوا ہے، جو کہ جنوری 2024 کو کورٹ میں ہوا اور وہ اس نکاح سے انکار کر رہی ہے، کہ مجھے اس لڑکے نے کہا تھا کہ میں یہ نکاح اس لئے کر رہا ہوں کہ میری ماں نہیں مان رہی، اس نکاح کی کوئی اہمیت نہیں ہے، نہ ہی نادرا سے رجسٹر ہے، اس لئے لڑکی کہہ رہی ہے کہ میں نے اس کی باتوں میں آکر یہ قدم اٹھایا ہے، نہ ہی اب تک کوئی رخصتی ہوئی ہے، لڑکی اپنی ماں کے گھر پر ہی ہے، اب مفتی صاحب ! اس مسئلہ پر ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس میں کوئی عدت ہوگی طلاق کی یا خلع کی صورت میں؟ مہربانی فرما کر اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ نوٹ لڑکا بھی ہمارے خاندان اور برادری کا ہے اور کفؤ بھی ہے، نکاح کی ترتیب یہ تھی کہ ایک مولوی صاحب تھے بس اور وہ لڑکا تھا، وکیل اور دو خواتین اور ایک لڑکے کا دوست اس مجلس میں موجود تھے جہاں مولوی صاحب نے ایجاب و قبول کروایا، نہ رخصتی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی خلوت ہوئی ہے۔
واضح ہوکہ شرعاً نکاح کے درست منعقد ہونے کے لئے دو عاقل، بالغ ، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عاقلہ بالغہ عورتوں کا مجلسِ نکاح میں بطورِ گواہ کے موجود ہونا اور ان ایجاب وقبول کو سننا لازم ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی بیٹی اگر عاقلہ ، بالغہ ہو اور اس نے اولیاء کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح کفؤ میں کر لیا ہو اور مجلسِ نکاح میں سائلہ کی بیٹی کے ساتھ مذکور لڑکا اور دو خواتین اور ایک وکیل موجود ہو اور ان سب نے نکاح کا عمل دیکھا اور ایجاب و قبول سنا ہو تو اس صورت میں شرعاً یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے، اب باقاعدہ طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر سائلہ کی بیٹی کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اگر مذکور لڑکا سائلہ کے خاندان کا ہو اور اس میں کوئی دینی و معاشرتی خرابی موجود نہ ہو اور لڑکا نان نفقہ وغیرہ دینے پر قادر ہو تو ایسی صورت میں طلاق کا معاملہ کرنے کے بجائے ان دونوں کی رخصتی کا اہتمام کرنا بہتر ہے، لیکن اگر علیحدگی کو اختیار کرنا ناگزیر ہو تو سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق چونکہ دونوں کے درمیان خلوت نہیں ہوئی اس لئےطلاق یا باہمی رضامندی سے خلع کی صورت میں سائلہ کی بیٹی پر عدت لازم نہیں، البتہ اگر وہ تنہائی میں مل چکے ہوں تو تین ماہواریاں گزرنے تک سائلہ کی بیٹی عدت میں بیٹھے گی ، اور عدت گزرنے سے پہلے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہ ہو گا۔
کما فی الدر المختار : (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما، وإن لم يثبت النكاح بهما) بالابنين اھ (کتاب النکاح ، ج: 3 ، ص: 21 ، ط: سعید)ـ
وفی الدر المختار: (قوله نكاح حرة مكلفة بلا ) رضا (ولی) و الاصل ان كل من تصرف في ماله تصرف فی نفسه و ما لا فلا (الی قوله) ( و یفتی) فی غیر الکفء الخ (باب الولی ، ج: 3 ، ص: 55 ، ط: سعید)۔
و فى رد المحتار : تحت : (قوله و يفتى فی غير الكف الخ) قيد بذلك لئلا يتوهم عوده الى قوله : فنفذ نكاح الخ و للاحتراز عما لو تزوجت بدون مهر المثل ، فقد علمت ان للولى الاعتراض ايضاً، و الظاهر انه لا خلاف فی صحة العقد و ان هذا القول المفتى به خاص بغير الكفء الخ ( باب الولی ، ج: 3 ، ص: 56 ، ط: سعید)۔
وفي الدر :(وسبب وجوبها) عقد النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه من موت أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء وشرطها الفرقة وركنها حرمات ثابتة بها كحرمة تزوج وخروج (وصحة الطلاق فيها) أي في العدة اھ (باب العدۃ ، ج: 3 ، ص: 504 ، ط: سعید)ـ