کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان لڑکا جوکہ ایک غیر مسلم ٹھیکدار کے پاس ملازم تھا ،مشین پر کام کرتے ہوئے، اس مسلم لڑکے کا ہاتھ مشین میں آگیا ، جس کے علاج کے لیے مذکور فیکٹری کے غیر مسلم ٹھیکدار نے کہا کہ اس کا علاج کرادیا جائے، اور علاج کا خرچ ہم دیدیں گے، چنانچہ فیکٹری اس ٹھیکدار کے نام پر رقم دینے سے عذر کرنے لگا اور معذرت کرلی ہے۔
اب آنجناب سے اس سلسلہ میں پوچھنا یہ ہے کہ مذکور لڑکے کے علاج پر جو رقم فیکٹری کی طرف سے خرچ کی گئی ہے، وہ لڑکے کے نام قرض ہے ، تو کیا اس کا قرض جو کہ علاج کی صورت میں اس پر واجب ہوگیا ہے، اتارنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مذکور لڑکا اگر واقعۃً نصاب کا مالک نہ ہو، تو قرض اتارنے کے سلسلہ میں زکوٰۃ کی مد سے اس کا تعاون کرنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: (ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير. الخ (2/343)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1