نکاح

آنلائن نکاح کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
88918
| تاریخ :
2025-11-17
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آنلائن نکاح کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم
میرا نام .... ہے، اور میرے شوہر محترم کا نام.....ہے، میرا نکاح آن لائن موبائل پر ہوا تھا، نکاح 27 رمضان کو ہوا تھا، جس میں میرے گواہ میرے والد محترم اور ان کے دوست بنے تھے، جبکہ میرے شوہر کا گواہ میرا حقیقی بھائی بنا تھا، میرے شوہر اور ان کی فیملی ویڈیو کال پر موجود تھی، اس لئے میرا بھائی وکیل کے طور پر گواہ بنا تھا، میرے شوہر کے گھر والوں میں سے کوئی بھی ہمارے پاس موجود نہیں تھا، تو اس وجہ سے میرے شوہر نے میرے بھائی کو اپنی طرف سے وکیل اور گواہ مقرر کیا، میرا سوال یہ ہے کہ میرا نکاح شریعت کے مطابق ہوا یا نہیں ہوا؟ جب کہ میرا کورٹ کا وکیل کہتا ہے کہ میرا بھائی میرا وکیل اور گواہ تو بن سکتا ہے، لیکن میرے شوہر کا نہیں، میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا ایسا ہی ہے؟ آیا میرا نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ شکریہ
نوٹ: نکاح کی تفصیل۔ مجلس عقد لڑکی کے گھر میں منعقد ہوا تھا، لڑکے .... نے لڑکی کے بھائی عبید علی کو اپنا وکیل بنایا تھا، لڑکی بذات خود مجلس عقد میں موجود تھی، نکاح خوان کے علاوہ مجلس عقد میں سات آٹھ افراد موجود تھے، اسی مجلس میں ایجاب و قبول ہوا، اور لڑکے والے ویڈیو کال پر موجود تھے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نکاح منعقد ہوا ہے کہ نہیں؟
نوٹ: اس کے بعد شوہر نے بیوی کو کال اور واٹس ایپ میسج کے ذریعہ مذکور الفاظ استعمال کئے ہیں ”میں نے تمہیں بتادیا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو“ ”میں کسی اور کو اپنی لائف میں رکھ لوں گا، تمہیں نہیں“اور بذریعہ موبائل فون کے یہ بھی بتایا گیا کہ ان دونوں کی نہ تو رخصتی ہوئی، اور نہ ہی خلوت صحیحہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کیلئے متعاقدین یا ان میں سے ایک جانب سے مقرر کئے جانے والے وکیل کا اس لڑکے یا لڑکی کا قریبی رشتہ داروں میں سے ہونا ضروری نہیں، بلکہ وکیل اجنبی بھی ہوسکتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر نے اس کے بھائی کو اپنے عقد نکاح کا وکیل بنایا ہو، اور مجلس عقد میں گواہوں کی موجود گی میں مقرر کردہ وکیل (سائلہ کے بھائی)نے شوہر کی طرف سے ایجاب و قبول کیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا تھا، البتہ اس عقد نکاح کے بعد شوہر کا رخصتی اور خلوت صحیحہ (میاں بیوی کو ایسی تنہائی میسر ہوجائے کہ جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو) سے قبل سائلہ کو مذکور الفاظ ”میں نے تمہیں بتادیا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو“ استعمال کرنے کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا عقد نکاح ختم ہو چکا ہے، اور سائلہ پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہے، بلکہ وہ بغیر عدت گزارے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، اور شوہر پر مقرر کردہ مہر کا آدھا حصہ اسے دینا لازم ہوگا،البتہ اس کے بعد اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا لازم ہوگا، لیکن ایسی صورت میں آئندہ شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الآیۃ(سورۃ البقرۃ، آیت 237)۔
وفی الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال الخ (کتاب النکاح، ج 3،ص 14،ط: سعید ) ۔
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع کل من العاقدین لفظ الآخر) لیتحقق رضاھما (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)الخ (کتاب النکاح، ج 3، ص 22، ط: سعید)۔
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ (الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا، ج 1،ص 294، ط: ماجدیہ)۔
وفیھا أیضاً: لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية الخ(الفصل الخامس فی الکنایات، ج 1، ص 374، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ: یری الحنفیۃ: أنہ یصح التوکیل بعقد الزواج من الرجل والمرأۃ إذا کان کل منھما کامل الأھلیۃ أی بالغاً عاقلاً حراً (إلی قولہ) کل ما جاز للإنسان أن یباشرہ من التصرفات بنفسہ، جاز لہ أن یوکل غیرہ فیہ، إذا کان التصرف یقبل النیابۃ الخ(المبحث الثالث، حکم التوکیل بالزواج، ج 7، ص 219، ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88918کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات