نکاح

فون پر کیے گئے نکاح کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
89044
| تاریخ :
2025-11-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر کیے گئے نکاح کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ کہ میں نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک لڑکے سے کیا۔ لڑکا لاہور میں ہے۔ جس ٹائم نکاح کیا میں اور میری بیٹی دونوں گھر میں اکیلی تھیں ، لڑکا لاہور میں اپنے دو کزن کے ساتھ تھا ، فون پر یہ نکاح ہوا کوئی مولوی وغیرہ نہیں تھا ، پس اُس نے کہا کہ میں نے فلانہ بنت فلاں کو دو کلو سونے میں قبول کیا اسکے کزن نے بھی پوچھا لڑ کی سے کیا تم کو قبول ہے تو لڑکی نے کہا قبول ہے تین دفعہ کہا۔ لڑکے نے بھی تین بار قبول ہے کہا۔ اب آپ یہ بتائیں کہ یہ نکاح ہوا ہے یہ نہیں ؟ کیونکہ لڑکےکا وکیل باپ یا بھائی موجود نہیں تھا۔
دوسرا مسئلہ :
ایک مہینے کے بعد لڑکے نے بغیر رخصتی کے لڑکی سے فون پر چار بار یہ کہا ”میں نے تمھیں چھوڑ دیا ہے“. اور پھر فوراً لڑ کی کے ماں کو فون کرکے کہا ”میں نے اسے طلاق دی، میں نے اسے طلاق دی، میں نے اسے طلاق دی“ اب آپ یہ بھی بتائیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ طلاق کے دوسرے دن ہی لڑکے نے لڑکی کی ماں کو فون کرکے کہا میں رجوع کرنا چاہتا ہوں تولڑکی کی ماں نے کہا کہ رجوع دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے تین طلاقوں پر نہیں ہوتا ہے۔ اب لڑکا باضد ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔لڑکا عربی زبان پر عبور رکھتا ہے کہتا ہے۔ طلاق نہیں ہوئی ہے میں نے لڑکی کی ماں کو بولا میرا نکاح لڑکی کی ماں سے تو نہیں ہوا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ و کیل اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اور باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا لازم اور ضروری ہے، جبکہ فون / کال پر یہ صورت ممکن نہیں ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کی بیٹی نے مذکور لڑکے کے ساتھ فون پر ہی ایجاب و قبول کیا ہو جیساکہ سوال میں مذکور ہے، تو اس طرح کا کیا ہوا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ، بلکہ یہ دونوں بدستور ایک دوسرے کے لیے نامحرم اور اجنبی ہیں، چنانچہ مذکور نکاح منعقد نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کی جانب سے کہے گئےالفاظ طلاق کی بھی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ لہذا سائلہ کی بیٹی اور اس لڑکے پر لازم ہے کہ اس آن لائن ایجاب و قبول کو نکاح سمجھ کر ایک دوسرے سے بے تکلف ہونے اور تعلق قائم رکھنے سے اجتناب کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: (‌ومنها) ‌أن ‌يكون ‌الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولا أو كتب إليها بذلك كتابا فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى وإن لم يسمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب لا يجوز عندهما الخ۔ (‌‌الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه، کتاب النکاح، ج،1، ص:269، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر: ومن شرائط الإيجاب والقبول: ‌اتحاد ‌المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة الخ۔
وفی الشامیۃ: (قوله: ‌اتحاد ‌المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا؛ وأما الفور فليس من شرطه؛ ولو عقدا وهما يمشيان أو يسيران على الدابة لا يجوز، وإن كان على سفينة سائرة جاز. اهـ. أي؛ لأن السفينة في حكم مكان واحد الخ۔( کتاب النکاح، ج: 3، ص: 14،ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89044کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات