السلام علیکم، جناب مفتی صاحب! کیا وتر کی نماز میں تینوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھی جاتی ہے؟ یا تینوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد الگ الگ سورتیں پڑھنا ہوں گی۔ میں وتر میں یہی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھتا ہوں اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص کے بعد تکبیر کرکے دعائے قنوت۔۔۔ کیا یہ بھی صحیح طریقہ ہے؟ براہِ کرم مجھے اس مسئلہ کا جواب جلد عنایت فرما دیں۔
واضح ہو کہ وتر کی کی پہلی رکعت میں سورت اعلی، دوسری رکعت میں سورت کافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص پڑھنا مسنون عمل ہے، لہذا سائل کو اگر یہ سورتیں یاد ہوں تو اسی کا اہتمام کرنا چاہیے، بلاوجہ تینوں رکعتوں میں سورت اخلاص نہیں پڑھنا چاہیے،البتہ اگر سائل کو سورت اخلاص کے علاوہ کوئی اور سورت یاد نہ ہو تو مجبوراً تینوں رکعتوں میں سورت اخلاص پڑھنا درست ہوگا۔
کمافی رد المحتار:(قوله: و السنة السور الثلاث) أي الأعلى و الكافرون والإخلاص، لكن في النهاية أن التعيين على الدوام يفضي إلى اعتقاد بعض الناس أنه واجب وهو لايجوز، فلو قرأ بما ورد به الآثار أحيانًا بلا مواظبة يكون حسنًا، بحر الخ(باب الوتر والنوافل، ج:2،ص:6،ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: لا بأس أن يقرأ سورة ويعيدها في الثانية، وأن يقرأ في الأولى من محل وفي الثانية من آخر ولو من سورة إن كان بينهما آيتان فأكثر الخ(فصل ویجھر الامام، ج:1،ص:546،ط:سعید)۔