نکاح

فون پر بغیر گواہوں کے نکاح کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
89208
| تاریخ :
2025-11-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر بغیر گواہوں کے نکاح کی شرعی حیثیت

اگر لڑکا اور لڑکی مختلف مقامات پر موجود ہو اور بذریعہ فون کال نکاح کا ایجاب قبول کریں جبکہ لڑکی کی طرف سے کوئی وکیل لڑکے کی طرف نہ موجود ہو اور لڑکی کے دل میں اطمینان نہ ہو کہ دوسری طرف لڑکا, نکاح خواں اور گواہ نے نکاح پُوری ایمانداری سے انجام دیا ہے جبکہ لڑکی کی ولی بھی مطمئن نہ ہو تو کیا یہ نکاح جائز کہلایا جاسکتا ہے اور اس صورت میں طلاق کا کیا حکم ہوگا.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے درست ہونے کے لئے فریقین (لڑکاولڑکی)کا بذات خود یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں کاایک ہی مجلس میں دوگواہان کے سامنے ایجاب وقبول کرنا ضروری ہے محض فون کال پر ایجاب و قبول کر نے سے شرعانکاح منعقد نہیں ہو تا ،لہذاصورت مسئولہ میں اگر سائلہ نے مجلس نکاح میں موجود افراد میں سےکسی کو اپنے نکاح کا وکیل نہ بنایا ہو ،تو ایسی صورت میں فقط فون پر ایجاب و قبول کرنے سے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ،اس لئےاس بنیاد پر دونوں کا باہمی بے تکلفی کا تعلق قائم کر نابھی جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ سائلہ دوسری جگہ نکاح کر نے میں بھی آزاد ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول:اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال (وفي مقام آخر)(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح (باب النکاح،ج:3،ص:14،ط:سعید)
وفی ردالمختار:تحت(قولہ ولایۃ ندب)ای یستحب للمرأۃ تفویض امرھا الی ولیھا کی لاتنسب الی الوقاحۃ(فصل ولایۃالندب والاستحباب فی النکاح،ج:3،ص:55،ط:سعید)
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ ( الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج:1،ص:194،ط:ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع:وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية(کتاب الطلاق فصل فی بیان حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،ط:سعید)
وفی فقہ الاسلام وادلتہ والحاصل: أن الطلاق عند الحنفية يتعلق بشرط التزويج، سواء عمم المطلِّق جميع النساء أو خصص ( ج:9 ص :2794 ناشر دار الفکر سوریہ دمشق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89208کی تصدیق کریں
0     274
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات