نکاح

خلوتِ صحیحہ سے قبل الگ الگ دی ہوئی تین طلاقوں کا حکم

فتوی نمبر :
89309
| تاریخ :
2025-11-29
معاملات / احکام نکاح / نکاح

خلوتِ صحیحہ سے قبل الگ الگ دی ہوئی تین طلاقوں کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ میں سائل نے مؤرخہ 29 اگست 2024 کو کراچی میں مسماۃ ہندہ سے نکاح کیا۔ نکاح کے فوراً بعد ہم وکیل کے آفس سے نکلے تو 30، 40 منٹ کے سفر کے دوران گھر سے کال آئی کہ پولیس نے گھر والوں کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر ہم نے اپنے کزن کے دوست کے گھر پناہ لی۔ وہاں میرے ساتھ میرے کزن اور ان کی اہلیہ مسلسل موجود رہیں۔اس شدید پریشانی میں ہم نے خود تھانے جا کر گرفتاری دی، جس کے بعد مجھے جیل بھیج دیا گیا اور لڑکی اپنے گھر والوں کے ساتھ چلی گئی۔ میں حلفاً بیان دیتا ہوں کہ نکاح سے لے کر گرفتاری تک ہماری نہ تو ہمبستری (دخول) ہوئی اور نہ ہی ہمیں ایک منٹ کے لئے بھی خلوتِ صحیحہ (تنہائی) نصیب ہوئی۔دو ماہ (2 ماہ) جیل میں رہنے کے بعد مجھے کورٹ پیش کیا گیا جہاں مجھ سے ایک سادہ کاغذ (جو منسلک ہے) پر دستخط لیے گئے اور میں نے زبان سے الگ الگ تین بار کہا: "میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"۔ اس کے 4 دن بعد مجھ سے اسٹامپ پیپر پر بھی دستخط لیے گئے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ چونکہ لڑکی "غیر مدخولہ" ہے، تو قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں بتائیں کہ کیا میرے پہلے جملے سے ہی نکاح ٹوٹ گیا تھا؟ اور کیا بعد کے الفاظ اور اسٹامپ پیپر بے اثر ہوگئے؟ کیا شرعاً صرف ایک طلاقِ بائن ہوئی ہے اور ہم بغیر حلالہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟
نوٹ: اب لڑکا، لڑکی اور دونوں کے گھر والے باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی شریعتِ مطہَّرہ کا حکم بتا کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذكر كرده بیان اگر واقعۃََ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو پہلی دفعہ طلاق کے الفاظ تحریر کرنے یا زبانی طور پر بولنے سے ہی سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے، جبکہ بعد کی تمام طلاقیں طلاق کا محل باقی نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہیں، پھر چونکہ سائل کے بیان کے مطابق دونوں کے درمیان خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تھی، اس لئے مطلقہ عورت پر عدت بھی لازم نہیں، چنانچہ اب وہ سائل سمیت کسی بھی شخص سے بغیر عدت گزارے نکاح کر سکتی ہے، چنانچہ اگر وہ سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح پر رضامند ہوتو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم اس صورت میں آئندہ سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالاولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل(‌‌باب طلاق غير المدخول بها،ج:٣،ص:٢٨٦،مط:سعيد)
و فیہ ایضاََ: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما، وإن لم يثبت النكاح بهما)( كتاب النكاح،ج:٣،ص:٢١،مط:سعيد)
وفیہ ایضاََ: (فالکنایات لاتطلق بھا قضاء الأ بنیۃ او دلالۃ الحال)وھی حالۃ مذاکرة الطلاق أو الغضب (کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج: ٣، ص:ِ ٢٩٦، ط: سعید)
و في ردالمحتارتحت: (قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: ‌أنت ‌طالق ‌طالق ‌طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى.(الى قوله) قوله لم تقع الثانية) المراد بها ما بعد الأولى، فيشمل الثالثة(‌‌باب طلاق غير المدخول بها،ج:٣،ص:٢٨٦،مط:سعيد)
و فی الهنديه: إذا ‌طلق ‌الرجل ‌امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق(الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج:١،ص: ٣٧٣، مط: ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89309کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات