جس لڑکی سے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، اس کا پہلا شوہر چینی تھا جو اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ لڑکی نے اُس کا سات سال انتظار کیا اور رابطہ کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن وہ نہیں ملا۔ لڑکی کے گھر والے بھی مجھ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں اور لڑکی بھی راضی ہے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا نکاح ہوسکتا ہے؟
مذکورہ صورت میں عورت کا شوہر اگر مسلمان ہو اور نکاح باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں ہوا تھا تو اب اس کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ اگر وہ صبر کر کے اپنا زمانہ عفت اور پاکدامنی کے ساتھ گزار سکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کر سکے تو بوقتِ ضرورت شدیدہ ( کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہو سکے یا بلاشوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو)تو یہ گنجائش ہے کہ صورت ذیل اختیار کر کے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے۔ اور وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم جج ، کی عدالت میں پیش کرے اور شہادت شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاح شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود و لاپتہ ہونا ثابت کرے، اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش وتلاش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو ، وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو، صرف احتمال، ہو وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیج کر تحقیق کرےاور اگر اخبارات میں شائع کر دینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔ الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہد بلیغ کرے اور اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست کرے جس پر حاکم اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے ، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔ اور اگر عورت عدالت میں زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ درازتک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہو کر اس حالت میں درخواست دی ہو،جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور صورت مسئولہ میں یہ تفریق طلاق بائن کہلائے گی، جبکہ حاکم کے پاس جانے سے قبل جو وقت گزاردیا ،اس کا اعتبار نہ ہوگا۔نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود شوہر سابق کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے، اس کے انتظار کی مہلت دے، پھر مہلت کی مدت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔
کما فی حاشية ابن عابدين: (هو) لغة المعدوم. وشرعا (غائب لم يدر أحي هو فيتوقع) قدومه (أم ميت أودع اللحد البلقع) أي القفر ،(کتاب المفقود ، ج:4،ص:292،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی فتح القدیر: وتکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند أبی حنیفۃؒ لأن فعل القاضی انتسب إلیہ کما فی العینین(۴/۱۱۹)-
و فی الھدایۃ: و لا یفرق بینہ و بین امرأتہ و قال مالک اذا مضی اربع سنین یفرق القاضی بینہ و بین امرأتہ و تعتد عدۃ الوفاۃ ثم تزوج من شاءت لان عمر رضی اللہ عنہ ھکذا قضی فی الذی استھواہ الجن بالمدینۃ و کفی بہ اماماً و لانہ منع حقھا بالغیبۃ فیفرق القاضی بینھما بعد ما مضی الخ۔(کتاب المفقود، ج؛ 2، ص: 622، ط: رحمانیۃ)-
و فی فتح القدیر: وإذا کان الزوج غنیاً اجلہ الحاکم لسنۃً فان وصل الیھا إلا فرق بینھا إذا طلبت المرأۃ ذلک وتلک الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ لان فعل القاضی اضیف إلی الزوج۔(۴/۱۲۹)-