نکاح کے وقت لڑکی کا ہونا ضروری ہے یا نہیں اور نکاح میں اگر شاہد نہ ہو
واضح ہو کہ نکاح کے وقت لڑکی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر لڑکی کی طرف سے اس کا وکیل موجود ہو تو بھی نکاح درست ہوگا جبکہ نکاح میں دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کا بطور گواہ مجلس نکاح میں موجود ہونا نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے شرعا لازم ہے اس لئے نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ہی سر انجام دینا ضروری ہے
کما فی الدر المختار:(و) شرط (حضور) شاهدين حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) علی الأصح (فاهمين)
أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف(ج:1،ص:20، مطبع: ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف" قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود" وهو حجة على مالك رحمه الله في اشتراط الإعلان دون الشهادة (ج:2،ص:724،مط:مکتبۃ البشری )
وفی مجمع الانھر: فان الواحد یتولی طرفی النکاح بخلاف البیع (ج:1،ص:371 ،مط:دار الاحیاء الترث العربی)
وفی التاتارخانیۃ:قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ اذا قال الرجل لرجل جئتک خاطبا ابنتک" (الی قولہ)فقال الاب زوجتک فقد تم العقد (ج:4،ص:8،مط:مکتبہ رشیدیہ)